اسرائیل نے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے پر اپنے تحفظات امریکا کے سامنے رکھ دیے ہیں، جبکہ دوسری جانب جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور تازہ کارروائیوں میں مزید فلسطینیوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کے ترجمان ڈورون اسپیلمین نے بتایا کہ اسرائیل نے مجوزہ فریم ورک پر اپنے تحفظات امریکی حکام تک پہنچا دیے ہیں۔ ان کے مطابق جو منصوبہ عوام کے سامنے آیا ہے، وہ اسرائیل کے مؤقف کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی حماس دوبارہ اپنی عسکری قوت بڑھانے، اسلحہ جمع کرنے اور نئے جنگجو بھرتی کرنے میں مصروف رہی، اس لیے کسی بھی مستقل معاہدے سے قبل حماس کا مکمل، قابل تصدیق اور ناقابل واپسی طور پر غیر مسلح ہونا ناگزیر ہے۔
اس سے قبل حماس نے اعلان کیا تھا کہ وہ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کے تحت اپنے ہتھیار ایک مجوزہ فلسطینی انتظامی کمیٹی کے حوالے کرنے پر آمادہ ہے، جسے امریکی صدر نے جنگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔
ادھر غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ غزہ کے سکیورٹی حکام کے مطابق اتوار کی صبح سے ہونے والے حملوں میں کم از کم 19 فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ ایک اسرائیلی حملے میں طبی سامان کا بڑا ذخیرہ بھی تباہ ہو گیا، جبکہ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایسے افراد کو نشانہ بنایا جو اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
ٹرمپ کے امن منصوبے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں فوجی کارروائیاں مکمل طور پر بند کرے اور مرحلہ وار اپنی افواج کا انخلا یقینی بنائے، تاہم اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حماس کی مکمل غیر مسلحی سے قبل فوجی انخلا ممکن نہیں۔
دوسری جانب فلسطینی رہنما محمد دحلان نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو جنگ کے خاتمے کے لیے سامنے آنے والے اس موقع کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کو امید کی ایک کرن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کامیابی کا انحصار حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر ہے۔











