برطانیہ میں جدید طبی ٹیکنالوجی نے سرجری کے شعبے میں ایک نئی پیش رفت کی راہ ہموار کر دی ہے، جہاں “دا ونسی 5” روبوٹک اسسٹڈ سرجیکل سسٹم کے ذریعے پھیپھڑوں کے کینسر کا کامیاب آپریشن کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جدید نظام سے نہ صرف پیچیدہ آپریشن زیادہ درست انداز میں ممکن ہو رہے ہیں بلکہ مریضوں کی صحت یابی کا عمل بھی پہلے کے مقابلے میں تیز ہو رہا ہے۔
وسطی لندن کے سینٹ بارتھولومیو اسپتال میں کنسلٹنٹ تھوراسک سرجن اور بارٹس ہیلتھ این ایچ ایس ٹرسٹ میں روبوٹک سرجری و تحقیق کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ساشا اسٹامنکووچ نے روبوٹک نظام کے ذریعے تقریباً دو گھنٹے طویل آپریشن کیا۔ اس دوران وہ ایک تھری ڈی کنسول کے ذریعے روبوٹک بازوؤں کو کنٹرول کرتے رہے، جبکہ ان کی ہدایات آپریشن تھیٹر میں موجود طبی ٹیم تک مسلسل پہنچتی رہیں۔
ڈاکٹر اسٹامنکووچ کے مطابق جدید روبوٹک نظام کی مدد سے انتہائی باریک خون کی شریانوں اور سانس کی نالیوں کے درمیان محفوظ انداز میں آپریشن ممکن ہوا، جس سے مریض کے پھیپھڑے کا زیادہ حصہ محفوظ رکھا جا سکا۔ ان کے بقول روبوٹک سرجری دراصل سرجن کو پہلے سے زیادہ درستگی اور قدرتی انداز میں کام کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
دا ونسی 5 روبوٹک سسٹم یورولوجی، گائناکالوجی، کولوریکٹل، تھوراسک اور جنرل سرجری سمیت کئی شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ برطانیہ کی حکومت نے ہدف مقرر کیا ہے کہ 2035 تک انگلینڈ میں ہونے والی ہر 10 میں سے 9 کی ہول سرجریاں روبوٹک معاونت سے انجام دی جائیں۔
ماہرین کے مطابق روبوٹک سرجری سے آپریشن کے دوران پیچیدگیوں، خصوصاً پھیپھڑوں سے ہوا کے اخراج جیسے مسائل کا خطرہ کم ہوتا ہے، جبکہ چھوٹے زخم کی وجہ سے مریض جلد صحت یاب ہو کر اسپتال سے گھر جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف مریضوں کو فائدہ ہوگا بلکہ اسپتالوں پر بڑھتے دباؤ اور انتظار کی طویل فہرستوں میں بھی کمی لانے میں مدد ملے گی۔
اس جدید نظام سے پھیپھڑوں کے کینسر کی سرجری کروانے والے 76 سالہ ایان میکلیوڈ نے بتایا کہ وہ این ایچ ایس کے پہلے مریض تھے جن کا آپریشن دا ونچی 5 کے ذریعے کیا گیا۔ ان کے مطابق وہ آپریشن کے صرف تیس منٹ بعد چلنے پھرنے لگے، چند ہی دن میں اسپتال سے گھر واپس آ گئے اور ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں معمول کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں۔
دوسری جانب رائل کالج آف نرسنگ نے ملک کے مختلف علاقوں میں روبوٹک سرجری کی غیر مساوی دستیابی اور فنڈنگ کے یکساں نظام کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں روبوٹک سرجری طبی شعبے کا اہم حصہ بن جائے گی، جس کے لیے نوجوان سرجنوں کی جدید خطوط پر تربیت ناگزیر ہے۔











