اسکاٹ لینڈ میں تقریباً پانچ صدیوں سے جاری سالانہ گوگا ہنٹ کو 2026 کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سمندری پرندوں کی آبادی کے تحفظ اور سائنسی شواہد کی بنیاد پر کیا گیا۔
اسکاٹ لینڈ کے قدرتی ورثے کے ادارے نیچر اسکاٹ کے مطابق شکار کرنے والے مقامی گروپ “مین آف نیس” نے دو ہزار تک کم عمر گینیٹ پرندوں کے شکار کے لیے لائسنس کی درخواست دی تھی، تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر اسے مسترد کر دیا گیا۔
یہ روایت پہلی بار 1549 میں ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس دوران شکاری تقریباً 64 کلومیٹر کا سمندری سفر طے کر کے غیر آباد جزیرے سولا اسگیر پہنچتے ہیں، جہاں گینیٹ کے بچوں کو پکڑ کر ذبح کیا جاتا ہے اور نمک لگا کر واپس جزیرہ لیوس لے جایا جاتا ہے۔
نیچر اسکاٹ کا کہنا ہے کہ 2021 سے 2023 کے دوران برڈ فلو کے باعث گینیٹ پرندوں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی، جس کے بعد سائنسی جائزے میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اس سال شکار سے پرندوں کی آبادی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی بنیاد پر 2026 کے لیے لائسنس جاری نہیں کیا گیا، تاہم 2027 میں نئی درخواست دی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب مقامی افراد نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ روایت کئی صدیوں سے جاری تھی اور ان کے نزدیک یہ ایک پائیدار اور ثقافتی عمل تھا۔
تاریخی طور پر دور افتادہ اسکاٹش علاقوں میں جنگلی پرندوں کا گوشت مقامی آبادی کے لیے خوراک کا اہم ذریعہ رہا ہے، جبکہ “گوگا” کو آج بھی روایتی انداز میں ابال کر آلوؤں کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔











