اہم ترین

نئی جگہ پر نیند کیوں نہیں آتی ! دماغ کی دلچسپ وجہ سامنے آگئی

نئی جگہ پر پہلی رات نیند کا بار بار ٹوٹنا یا معمول سے کم سونا ایک عام کیفیت ہے، جسے ماہرین ’فرسٹ نائٹ ایفیکٹ‘ قرار دیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق نئی جگہ پر دماغ مکمل طور پر پرسکون ہونے کے بجائے ماحول پر زیادہ نظر رکھتا ہے۔

نیند کے محققین کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت ممکنہ طور پر ارتقائی وجوہات رکھتی ہے۔ یونیورسٹی آف فریبرگ کی نیند کی محقق اینا وِک کے مطابق نامانوس ماحول میں سوتے ہوئے دماغ کا ایک حصہ زیادہ چوکس رہتا ہے تاکہ کسی ممکنہ خطرے کا فوری اندازہ لگایا جاسکے۔

یونیورسٹی آف پٹسبرگ کے ماہرِ نفسیات اور نیند کے محقق احمد مایلی کے مطابق زیادہ تر افراد نئی جگہ پر اس کیفیت کا کسی نہ کسی حد تک تجربہ کرتے ہیں اور اوسطاً 20 سے 30 منٹ کم نیند لیتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ نئی جگہ پر نیند کے دوران دماغ کا فرنٹل لوب نسبتاً زیادہ فعال رہتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیند نہ صرف کم بلکہ نسبتاً کم گہری بھی ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بچوں، نوعمروں اور بڑی عمر کے افراد میں ’فرسٹ نائٹ ایفیکٹ‘ زیادہ نمایاں ہوسکتا ہے، جبکہ 20 کی دہائی کے افراد نسبتاً کم متاثر ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی جگہ پر نیند متاثر ہونے کی واحد وجہ دماغ کی چوکسی نہیں۔ سفر کی تھکن، روشنی، شور، کمرے کا درجہ حرارت، روزمرہ معمول میں تبدیلی اور ذہنی دباؤ بھی نیند میں خلل ڈال سکتے ہیں۔

خاص طور پر وہ افراد جو پہلے ہی بے چینی کا شکار رہتے ہیں، اس کیفیت سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ نیند نہ آنے کی فکر خود مزید بے خوابی کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق عام طور پر یہ اثر پہلی رات کے بعد کم ہوجاتا ہے، اس لیے ایک رات کی کم نیند پر زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

ماہرین نے نئی جگہ پر بہتر نیند کے لیے رات کو اسکرین کا استعمال کم کرنے، ٹھنڈے اور تاریک کمرے میں سونے، سونے اور جاگنے کا معمول برقرار رکھنے اور رات کا معمول پہلے سے جاری رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔

پسندیدہ تکیہ یا کمبل جیسی مانوس چیز ساتھ لے جانا بھی نئے ماحول سے مانوس ہونے میں مدد دے سکتا ہے۔ اہم سفر، اجلاس یا تقریب سے پہلے ایک رات پہلے منزل پر پہنچنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے تاکہ جسم اور دماغ کو نئے ماحول سے ہم آہنگ ہونے کا وقت مل سکے

پاکستان