اہم ترین

سورج سے 100 ارب گنا زیادہ توانائی: نئی قسم کا خلائی جسم ’’بلیک ہول اسٹار‘‘ دریافت

ماہرین فلکیات نے کائنات میں ایک نئی نوعیت کا خلائی جسم دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے جسے ’’بلیک ہول اسٹار‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ دریافت ابتدائی کائنات میں نظر آنے والے پراسرار سرخ اجسام کے معمہ کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق امریکی قیادت میں ماہرین فلکیات کی ایک ٹیم نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے اس خلائی جسم کا سراغ لگایا، جو بگ بینگ کے تقریباً 66 کروڑ سال بعد موجود تھا۔ اس حوالے سے تحقیق سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق بلیک ہول اسٹار دیکھنے میں ایک ایسے ستارے جیسا معلوم ہوتا ہے جس کا حجم ہمارے نظامِ شمسی کے لگ بھگ ہے، تاہم یہ کسی عام ستارے کے مقابلے میں تقریباً 100 ارب گنا زیادہ توانائی خارج کرتا ہے۔ اس قدر غیر معمولی توانائی عام ستاروں میں ہونے والے جوہری انضمام سے پیدا ہونا ممکن نہیں۔

جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے 2022 میں کام شروع کرنے کے بعد ابتدائی کائنات میں متعدد انتہائی روشن اجسام دریافت کیے ہیں جنہیں ’’لٹل ریڈ ڈاٹس‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان اجسام کی حقیقت ماہرین فلکیات کے لیے طویل عرصے سے ایک اہم معمہ بنی ہوئی تھی۔

ماہرین نے ابتدا میں خیال کیا کہ دریافت کیے گئے سرخ جسم کا رنگ اس کے گرد موجود گردوغبار کی وجہ سے ہے، تاہم مختلف طولِ موج پر حاصل کیے گئے ڈیٹا کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ روشنی کے کچھ حصے غائب ہوجاتے ہیں۔ اس سے عندیہ ملا کہ سرخی کی وجہ گردوغبار نہیں بلکہ ہائیڈروجن گیس ہے۔

سائنس دانوں نے کمپیوٹر ماڈلنگ اور مختلف سمیولیشنز کے ذریعے نتیجہ اخذ کیا کہ اس خلائی جسم کے مرکز میں ایک بلیک ہول موجود ہوسکتا ہے، جس کے گرد گیس کا ایک گہرا غلاف اسے ستارے جیسی شکل دیتا ہے۔

تحقیق میں اس خلائی جسم کو ایم او ایم بی ایچ اسٹار 1 کا نام دیا گیا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق نام میں ’’بی ایچ‘‘ اور ستارہ بلیک ہول اسٹار کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ نمبر ایک اس امکان کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ مستقبل میں ایسے مزید اجسام دریافت ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایم او ایم بی ایچ اسٹار 1 کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی روشنی اس کی میزبان کہکشاں سے بھی کہیں زیادہ ہے، جس کے باعث دوربین اس وقت تقریباً مکمل طور پر بلیک ہول اسٹار سے خارج ہونے والی روشنی دیکھ رہی ہے۔

تحقیق کے مطابق اگرچہ ابتدائی کائنات میں دریافت ہونے والے دیگر ’’لٹل ریڈ ڈاٹس‘‘ بھی بلیک ہول اسٹارز ہوسکتے ہیں، تاہم اس مفروضے کی تصدیق کے لیے مزید مشاہدات اور تحقیق درکار ہوگی۔

پاکستان