تائیوان کی وزارتِ ڈیجیٹل امور نے انکشاف کیا ہے کہ جولائی کے دوران جزیرے کے سرکاری اداروں کو نشانہ بنانے والے سائبر حملوں میں بیرونِ ملک موجود ہیکرز نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایجنٹس کی مدد حاصل کی۔ حکام کے مطابق حملوں میں اے آئی ایجنٹس کو مختلف سائبر حملوں کی تکنیکوں کو تیزی سے یکجا کرنے اور حملوں کی رفتار اور پیمانے میں اضافہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
اے ایف پی کے مطابق تائیوان کے متاثرہ سرکاری اداروں نے حملوں کے بعد ضروری حفاظتی اقدامات مکمل کرلیے ہیں، تاہم حکام نے حملوں کے پیمانے، نقصانات یا نشانہ بنائے گئے مخصوص اداروں کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
تائیوان نے اس تازہ سائبر حملے کے پیچھے کسی مخصوص ملک کا نام نہیں لیا، تاہم جزیرے کے حکام ماضی میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے لاکھوں سائبر حملوں میں بڑی تعداد کا الزام چینی ہیکرز پر عائد کرتے رہے ہیں۔ تائیوان کا کہنا ہے کہ بیجنگ اس کے خلاف سائبر حملوں سمیت مختلف ’’گرے زون‘‘ حربے استعمال کرتا ہے، جنہیں براہِ راست جنگی کارروائی نہیں سمجھا جاتا لیکن ان کا مقصد دباؤ اور ہراساں کرنا ہوتا ہے۔
تائیوانی وزارت کے مطابق ہیکرز نے ایک ’’ہائبرڈ ماڈل‘‘ استعمال کیا جس میں اوپن سورس اے آئی ایجنٹ پلیٹ فارمز سمیت مصنوعی ذہانت کے مختلف ٹولز کو سائبر حملوں میں معاون کے طور پر استعمال کیا گیا۔
وزارت کا کہنا ہے کہ اے آئی ایجنٹس بیک وقت متعدد حملہ آور تکنیکوں کو تیزی سے ترتیب دے سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ بیک اپ اور ٹیسٹنگ سسٹمز جیسے ثانوی نظاموں کو حملے کے لیے ابتدائی راستے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس طریقۂ کار کے باعث ایسے حملوں میں رفتار زیادہ، لاگت کم اور دائرہ کار وسیع ہوسکتا ہے۔
یہ انکشاف اس ہفتے سامنے آنے والی فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے بعد ہوا، جس میں تائیوان کو مبینہ طور پر چینی ہیکرز کی جانب سے کیے گئے ایک خودکار اے آئی سائبر حملے کا ہدف قرار دیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اے آئی کمپنی ڈریم کے محققین نے بتایا کہ ہیکرز نے اوپن سورس اے آئی ایجنٹس استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا خودکار ٹول تیار کیا جو سائبر حملے کے مختلف مراحل انجام دینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق اس ٹول میں آٹھ تک خودکار اے آئی ایجنٹس تعینات کیے گئے، جنہوں نے تائیوان کے 21 سرکاری نظاموں کی نقشہ سازی کی، ممکنہ کمزوریوں کا جائزہ لیا اور رکاوٹ پیش آنے کی صورت میں اپنی حکمتِ عملی تبدیل کی۔
سائبر جنگ میں اے آئی کا بڑھتا کردار
تائیوان نیٹ ورک انفارمیشن سینٹر کے چیئرمین کینی ہوانگ کے مطابق اے آئی کو سائبر حملوں میں استعمال کرنا کوئی نئی بات نہیں، تاہم متعدد اے آئی ایجنٹس کے ذریعے ایک سائبر حملے کو انجام دینے کا انکشاف اپنی نوعیت کا ایک اہم واقعہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اے آئی ایجنٹس سائبر حملوں کے روایتی طریقۂ کار کو تبدیل کرسکتے ہیں، کیونکہ یہ مختلف مراحل کو خودکار بنانے، معلومات جمع کرنے، ممکنہ کمزوریوں کی نشاندہی کرنے اور حالات کے مطابق حکمتِ عملی تبدیل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
تائیوان اور چین کے درمیان پہلے ہی سیاسی اور عسکری کشیدگی موجود ہے۔ چین تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ تائیوان کی حکومت بیجنگ پر فوجی، سیاسی اور سفارتی دباؤ بڑھانے کا الزام عائد کرتی ہے۔ سائبر حملوں کو بھی اسی وسیع تر دباؤ کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب امریکا سمیت کئی ممالک گزشتہ برسوں کے دوران بیجنگ سے مبینہ طور پر منسلک ہیکنگ سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں، جن میں حکومتی اداروں، عسکری تنصیبات اور کاروباری اداروں کو نشانہ بنانے کے الزامات شامل ہیں۔ چین ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ ہر قسم کے سائبر حملوں کی مخالفت اور ان کے خلاف کارروائی کرتا ہے۔











