ایرانی وزارت خارجہ نے قطر سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ 2 مارچ کو دفاعی مشن پر جانے والے تین ایرانی پائلٹوں کی موجودہ صورتحال سے متعلق واضح اور مستند معلومات فراہم کی جائیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ تہران اپنے پائلٹوں کی صورتحال معلوم کرنے کے لیے قطر کے ساتھ دوطرفہ رابطوں کے علاوہ کثیرالجہتی اور قانونی ذرائع بھی استعمال کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام قطری حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں اور پائلٹوں سے متعلق درست معلومات کے حصول کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ایران نے اس معاملے پر مارچ میں انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس سے بھی باضابطہ رابطہ کیا تھا۔
اسماعیل بقائی کے مطابق چار ایرانی پائلٹ ایک دفاعی فضائی مشن پر گئے تھے، جس کے دوران ایک پائلٹ شہید ہوا اور اس کا جسد ایران واپس پہنچا، جبکہ باقی تین پائلٹوں کے بارے میں تاحال صورتحال واضح نہیں۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ جب تک تینوں پائلٹوں کی صورتحال واضح نہیں ہوتی، تہران انہیں قید میں تصور کرے گا اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے تمام دستیاب سفارتی اور قانونی راستے استعمال کرتا رہے گا۔
دوسری جانب پاکستان اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت میں مبینہ 60 روزہ مدت ختم ہونے کے بعد ایران کی آئندہ حکمت عملی سے متعلق سوال پر ایرانی ترجمان نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت میں ’’60 دن کی مہلت‘‘ نام کی کوئی شق موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی پالیسیاں کسی الٹی میٹم یا مقررہ مہلت کی بنیاد پر نہیں بلکہ قومی مفادات اور ملکی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کرتا ہے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں یہ طے کیا گیا تھا کہ 60 دن کے اندر پابندیوں کے خاتمے اور جوہری معاملے پر مذاکرات شروع کیے جائیں گے، جبکہ پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں مدت میں توسیع کی جا سکتی تھی۔
تاہم ان کے بقول امریکا نے 18 جون کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے چند ہفتوں بعد ہی اس کی شقوں کی کھلی خلاف ورزی شروع کردی، جس کے باعث مذاکرات شروع ہی نہیں ہو سکے اور اس تناظر میں 60 روزہ مدت کی بحث بھی بے معنی ہوگئی۔











