برطانیہ میں کی گئی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزمرہ معمول میں باقاعدگی سے سیڑھیاں چڑھنے والے افراد میں دل کی بیماریوں سے موت کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہوسکتا ہے۔
یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا اور ناروک اینڈ نورفوک یونیورسٹی ہسپتال کے محققین نے 9 مطالعات کے جائزے میں تقریباً 4 لاکھ 80 ہزار افراد کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔ شرکا کی عمریں 35 سے 84 سال کے درمیان تھیں اور ان میں صحت مند افراد کے ساتھ دل کے امراض کی تاریخ رکھنے والے افراد بھی شامل تھے۔
تحقیق کے مطابق جو افراد باقاعدگی سے سیڑھیاں چڑھتے تھے، ان میں دل سے متعلق بیماریوں کے باعث موت کا خطرہ سیڑھیاں کم چڑھنے والوں کے مقابلے میں 39 فیصد کم جبکہ کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 24 فیصد کم پایا گیا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ روزانہ تقریباً 6 منزلیں یا 60 سے 70 سیڑھیاں چڑھنا قلبی صحت کے حوالے سے نمایاں فوائد سے منسلک تھا۔ بعض مطالعات میں زیادہ سیڑھیاں چڑھنے کے ساتھ صحت کے فوائد میں اضافے کا رجحان بھی دیکھا گیا۔
محققین کے مطابق سیڑھیاں چڑھنا تیز جسمانی سرگرمی کی ایک آسان شکل ہے جسے روزمرہ زندگی میں جم یا باقاعدہ ورزش کے لیے اضافی وقت نکالے بغیر شامل کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دن میں چند مرتبہ مختصر دورانیے کی جسمانی سرگرمی بھی مجموعی صحت کے لیے مفید ہوسکتی ہے۔
تاہم محققین نے واضح کیا کہ تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صرف سیڑھیاں چڑھنا ہی دل کی بیماری سے بچاؤ کا براہ راست سبب ہے، کیونکہ کئی مطالعات میں افراد کی جسمانی سرگرمی کا ڈیٹا خود ان کے بتانے پر مبنی تھا اور سیڑھیاں چڑھنے کی پیمائش بھی مختلف طریقوں سے کی گئی۔
ماہرین کے مطابق گھٹنوں یا ٹانگوں کے جوڑوں کے مسائل، نقل و حرکت میں دشواری یا بعض عضلاتی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے سیڑھیاں مناسب ورزش نہیں ہوسکتیں۔ ایسے افراد تیز چہل قدمی، سائیکلنگ، تیراکی یا اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق دیگر ورزشوں کو متبادل کے طور پر اختیار کرسکتے ہیں۔
تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ اگر لفٹ اور سیڑھی میں انتخاب ہو اور صحت اجازت دے تو سیڑھیوں کا انتخاب روزمرہ جسمانی سرگرمی بڑھانے کا ایک آسان طریقہ ہوسکتا ہے۔











