سرمائی اولمپکس 2030 کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ مستعفی

فرانس میں ہونے والے 2030 سرمائی اولمپکس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ ایڈگر گروسپیرون نے کئی ماہ سے جاری اندرونی کشیدگی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

ایڈگر گروسپیرون گزشتہ 18 ماہ سے اولمپکس کی تیاریوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ وہ خود بھی سابق اولمپک چیمپئن ہیں اور 1992 کے البرٹ وِل سرمائی اولمپکس میں موگولز اسکیئنگ میں سونے کا تمغہ جیت چکے ہیں۔

گروسپیرون نے اپنے استعفے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ آرگنائزنگ کمیٹی میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ موجودہ حالات میں اس منصوبے کے ساتھ مزید آگے بڑھنا ممکن نہیں۔

ان کے دور میں اولمپکس کی میزبانی سے متعلق سیاسی اختلافات اور علاقائی حکام کے ساتھ کشیدگی بھی سامنے آتی رہی۔ بعض علاقائی شراکت داروں کو اعتراض تھا کہ 2024 پیرس اولمپکس میں اختیار کیے گئے طریقہ کار کو فرانسیسی الپس میں ہونے والے سرمائی کھیلوں پر بھی لاگو کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ فرانسیسی حکومت، پرووانس آلپ کوٹ ڈی ازور اور اوورنی رون آلپ کے علاقائی حکام سمیت فرانسیسی اولمپک و پیرا اولمپک کمیٹی نے بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کو آگاہ کیا تھا کہ وہ گروسپیرون کے ساتھ مزید کام کرنے میں خود کو پُراعتماد محسوس نہیں کرتے۔

آرگنائزنگ کمیٹی نے گروسپیرون کے استعفے کو منصوبے اور انتظامی امور کے مفاد میں ایک منظم منتقلی قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے گروسپیرون کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کاوشیں اہم رہی ہیں۔ آئی او سی کے مطابق اولمپکس منصوبے کی مالی بنیادیں مضبوط ہیں اور مقابلوں کے مقامات سے متعلق جامع منصوبہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

گروسپیرون کی رخصتی 2030 سرمائی اولمپکس کی آرگنائزنگ کمیٹی میں اعلیٰ سطح پر ہونے والی متعدد تبدیلیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔