امریکی مصنوعی ذہانت کمپنی اینتھروپک نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنے اے آئی ماڈل ’کلاڈ‘ کو مبینہ طور پر خطرناک اور تخریبی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی متعدد کوششوں کا سراغ لگا کر انہیں ناکام بنا دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق بعض معاملات میں اس ٹیکنالوجی کو حیاتیاتی اور روایتی ہتھیاروں کی تیاری میں مدد دینے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔
اینتھروپککی جانب سے جاری کردہ تازہ تھریٹ انٹیلی جنس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دسمبر 2025 سے اگست 2026 کے دوران کمپنی نے کلاڈ کے ہائیکو، سونیٹ اور اوپس ماڈلز کے ممکنہ ’بدنیتی پر مبنی استعمال‘ کے کئی کیسز کی نشاندہی کی اور انہیں روکنے کے اقدامات کیے۔
رپورٹ کے مطابق کلاڈ کو صرف ہتھیاروں سے متعلق سرگرمیوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اسے سائبر جاسوسی، نگرانی، فراڈ، اسکیمز اور سیاسی پروپیگنڈا سمیت مختلف مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔ بعض کیسز میں جعلی ڈیٹنگ ایپس، ہوٹل کے وائی فائی سے متعلق فراڈ اور ایسے نگرانی کے نظام تیار کرنے کی کوششیں بھی سامنے آئیں جن کا مقصد مخالفین یا اختلافِ رائے رکھنے والے افراد کی شناخت کرنا تھا۔
اینتھروپک نے خاص طور پر حیاتیاتی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کو انتہائی سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اسے ایسے پانچ کیسز کا پتہ چلا جن میں اس کے اے آئی ماڈلز کو ایسی سرگرمیوں میں استعمال کیا گیا جو حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری میں معاون ثابت ہوسکتی تھیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی کو مناسب حفاظتی نظام کے بغیر استعمال کیا جائے تو اس کے سنگین اور تباہ کن نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
تاہم اینتھروپک نے واضح کیا کہ حیاتیاتی تحقیق میں استعمال ہونے والی معلومات ہمیشہ خطرناک مقاصد کے لیے نہیں ہوتیں، کیونکہ یہی معلومات ویکسین کی تیاری یا بیماریوں کے علاج میں بھی مدد دے سکتی ہیں۔ کمپنی کے تھریٹ انٹیلی جنس سربراہ جیکب کلائن نے بھی صورتحال کو انتہائی پیچیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطرہ ہمیشہ کسی ایسے شخص کی صورت میں سامنے نہیں آتا جو کھلے عام تباہی پھیلانے کا ارادہ ظاہر کرے۔
رپورٹ میں ایسے چھ کیسز کا بھی ذکر کیا گیا جہاں کلاڈ کو روایتی ہتھیاروں سے متعلق سافٹ ویئر تیار کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان میں آتشیں ہتھیار، میزائل، مسلح ڈرونز، بم اور دیگر جنگی آلات کے ساتھ ساتھ ان کے ہدف بندی اور کنٹرول سسٹمز سے متعلق سافٹ ویئر بھی شامل تھے۔
اینتھروپککے مطابق سائبر جرائم پیشہ عناصر اور ریاستی پشت پناہی رکھنے والے ہیکنگ گروپس بھی اے آئی کو اپنی کارروائیوں میں تیزی سے استعمال کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں شائنی ہنٹرز اور چین سے وابستہ بعض لیبارٹریز کا نام بھی لیا گیا ہے۔
رپورٹ میں ایک ایسے ہیکنگ گروپ کا بھی ذکر ہے جس کی سرگرمیاں روس سے منسلک گروپ مڈ ٹرم بلیزرڈسے مماثلت رکھتی ہیں۔ اینتھروپککے مطابق اس گروپ نے مبینہ طور پر ایسا نظام تیار کرنے کے لیے اے آئی استعمال کیا جو یہ خودکار طور پر جانچ سکتا تھا کہ اس کا تیار کردہ نقصان دہ سافٹ ویئر سیکیورٹی نظام کی نظر میں آیا یا نہیں، اور پکڑے جانے کی صورت میں کوڈ میں تبدیلی کرکے دوبارہ دفاعی نظام کو چکما دینے کی کوشش کرتا تھا۔
اینتھروپک نے یہ بھی کہا کہ اس کے اے آئی ماڈلز کو روس سے منسلک سائبر جاسوسی مہم اور ایران کے ایک پروپیگنڈا ادارے کی جانب سے بھی استعمال کیا گیا۔ کمپنی کے مطابق اس نے جہاں ضروری سمجھا وہاں متعلقہ معلومات حکام اور ٹیکنالوجی انڈسٹری کے شراکت داروں کے ساتھ شیئر کی ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کے ذریعے ان واقعات کو سامنے لانے کا مقصد اے آئی کے غلط استعمال کے بارے میں آگاہی بڑھانا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام، نشاندہی اور فوری کارروائی کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
اینتھروپک نے اس سے قبل چینی اے آئی کمپنیوں پر بھی کلاڈ کی صلاحیتوں کو نقل کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کیا تھا۔ کمپنی کے مطابق رپورٹ میں سامنے آنے والے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طاقتور اے آئی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے ساتھ اس کے غلط استعمال کے خطرات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔


