رضااللہ اور عباس نے لاج رکھ لی: پاکستان انگلینڈسے اننگ کی شکست سے بچ گیا

برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں پاکستان نے شاندار مزاحمت کرتے ہوئے اننگز کی شکست کا خطرہ ٹال دیا۔ پاکستان نے دوسری اننگز میں 449 رنز بنائے اور انگلینڈ کو جیت کے لیے 130 رنز کا ہدف دیا۔

پاکستان کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے رضا اللہ نے نچلے نمبرز پر طوفانی بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 63 گیندوں پر 81 رنز کی یادگار اننگز کھیلی۔ ان کی اننگز میں 9 چھکے اور 4 چوکے شامل تھے۔ رضا اللہ نے محمد عباس کے ساتھ نویں وکٹ پر 121 رنز کی شراکت قائم کی اور پاکستان کو انتہائی مشکل صورتحال سے نکال کر انگلینڈ کو دوبارہ بیٹنگ پر مجبور کردیا۔

محمد عباس نے بھی ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 42 رنز بنائے۔ دونوں بلے بازوں کی مزاحمت اس وقت سامنے آئی جب پاکستان اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے سخت دباؤ میں تھا۔ رضا اللہ کی جارحانہ بیٹنگ نے میچ کا نقشہ ہی بدل دیا اور ایجبسٹن میں موجود شائقین کو بھی حیران کردیا۔

اس سے قبل پاکستان کی دوسری اننگز کا آغاز بھی مشکلات سے ہوا تھا۔ انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 453 رنز بنائے تھے جبکہ پاکستان اپنی پہلی باری میں صرف 133 رنز پر آؤٹ ہوگیا تھا، جس کے نتیجے میں انگلینڈ کو 320 رنز کی بڑی برتری حاصل ہوئی۔

تاہم دوسری اننگز میں پاکستانی بیٹرز نے نسبتاً بہتر مزاحمت کی۔ شان مسعود 95 رنز بناکر سنچری سے صرف 5 رنز پہلے آؤٹ ہوئے، جبکہ بابر اعظم نے 76 اور اذان اویس نے 59 رنز کی اننگز کھیلی۔ ان بیٹرز کے بعد رضا اللہ اور محمد عباس نے نچلے آرڈر میں ذمہ داری سنبھالی۔

انگلینڈ کی جانب سے گس اٹکنسن سب سے کامیاب بولر رہے اور انہوں نے تین وکٹیں حاصل کیں، جبکہ اولی رابنسن، ڈین لارنس اور جوش ٹنگ نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

رضا اللہ کے لیے یہ ٹیسٹ ڈیبیو پہلے ہی خاص بن چکا ہے۔ وہ میچ کی پہلی اننگز میں بھی نمایاں رہے تھے اور انگلینڈ کے کپتان جو روٹ سمیت چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اس طرح نوجوان فاسٹ بولر نے اپنی پہلی ٹیسٹ میں گیند اور بلے دونوں سے پاکستان کے لیے اہم کردار ادا کیا۔

انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچز کی سیریز پاکستان پہلے ہی ابتدائی دونوں میچز ہار کر گنوا چکا ہے، اس لیے ایجبسٹن ٹیسٹ میں جیت یا ڈرا پاکستان کے لیے سیریز کے اختتام کو قدرے بہتر بنانے کا موقع ہے۔ دوسری جانب انگلینڈ کو میچ جیتنے کے لیے 130 رنز درکار ہیں۔