ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو امریکا کے کسی علاقائی پولیس مین کی ضرورت نہیں، خطے کی سالمیت اور سلامتی کی ضمانت خود خطے کے ممالک اور اس کے اہم فریق ہی دے سکتے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق صدر پیزشکیان نے بھارت میں برکس سربراہ اجلاس کے موقع پر ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سے ملاقات کے دوران کہا کہ مشرق وسطیٰ کی علاقائی سالمیت اور سکیورٹی کا تحفظ خطے میں موجود ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور بیرونی طاقت کو علاقائی نگران کا کردار ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔
ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی انتہائی بلند سطح پر ہے اور دونوں ممالک آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ کے لیے آمنے سامنے ہیں۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا اہم بحری راستہ ہے، جس کے ذریعے عالمی سطح پر تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے۔
پیزشکیان نے زور دیا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ کے مستقبل کا فیصلہ خطے کے ممالک کی شمولیت اور باہمی تعاون سے ہونا چاہیے، نہ کہ کسی بیرونی طاقت کی نگرانی میں۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کو بھی انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ اس اہم بحری گزرگاہ میں کسی بھی کشیدگی کے عالمی توانائی کی ترسیل اور تیل کی منڈیوں پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔
تہران مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتا رہا ہے کہ خلیجی خطے کی سلامتی علاقائی ممالک کے ذریعے یقینی بنائی جانی چاہیے، جبکہ واشنگٹن خطے میں اپنی فوجی موجودگی اور اتحادیوں کے تحفظ کو اپنی اہم ترجیحات میں شمار کرتا ہے


