بالی ووڈ اداکارہ پریتی زنٹا نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں پردے پر خود کو دیکھنا عجیب محسوس ہوتا ہے، اسی لیے وہ اپنی بیشتر فلمیں دیکھنے سے گریز کرتی ہیں۔ اداکارہ کا کہنا ہے کہ فلم مکمل ہونے کے بعد اسے دیکھتے ہوئے انہیں بار بار محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے کردار کو اس سے بہتر انداز میں ادا کرسکتی تھیں۔
بھارتی نیوز ویب سائیٹ ہندوستان ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پریتی زنٹا نے اپنی نئی فلم وائب اور اپنے کام کے تجربات کے بارے میں گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود کو پردے پر دیکھ کر اپنے کام کا غیر جانب دارانہ جائزہ نہیں لے پاتیں اور فلم دیکھنا ان کے لیے خاصا غیر آرام دہ تجربہ ہوتا ہے۔
پریتی زنٹا کے مطابق ایسا نہیں کہ وہ اپنی فلمیں دیکھنا نہیں چاہتیں، بلکہ انہیں خود کو اسکرین پر دیکھنا ہی بہت اٹپٹا محسوس ہوتا ہے۔ وہ اکثر سوچتی ہیں کہ میں اسے مزید بہتر کرسکتی تھی۔
وائب میں سپر جاسوس کا کردار
تقریباً تین دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کیریئر میں متعدد کامیاب فلمیں دینے والی پریتی زنٹا اب کنال کھیمو کی فلم وائب میں ایکشنن کا حصہ بناتی ہے۔ ان دونوں کرداروں میں کنال کھیمو اور اسپर्श شریواستو دکھائی کردار میں نظر آئیں گی۔ بالی ووڈ میں واپسی کے بعد یہ ان کی دوسری فلم قرار دی جارہی ہے۔
فلم میں وہ میڈم ایچ نامی ایک سپر جاسوس کا کردار ادا کر رہی ہیں، جو دو اجنبی افراد کو ایک خفیہ مشن کا حصہ بناتی ہے۔
ایکشن مناظر نے پریتی کو بھی حیران کردیا
پریتی زنٹا نے فلم کے ایکشن مناظر کے بارے میں بتایا کہ وہ زیادہ تر اسٹنٹس خود کرنا چاہتی تھیں، تاہم ایکشن سینز ایکشن ٹیم کی محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پردے پر نظر آنے والے مناظر کے پیچھے پوری ٹیم کی سخت محنت شامل ہے۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں بتایا کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران انہیں لاتیں اور مکے بھی کھانے پڑے، جس میں تکنیکی پیچیدگیاں بہت زیادہ ہوتی ہیں، اس لیے ہر اسٹنٹ خود کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
اداکارہ نے ایکشن ٹیم کی محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پردے پر نظر آنے والے مناظر کے پیچھے پوری ٹیم کی سخت محنت شامل ہے۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں بتایا کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران انہیں لاتیں اور مکے بھی کھانے پڑے، جس کا انہوں نے پہلے کبھی تصور نہیں کیا تھا۔
پریتی زنٹا کے مطابق جب ایکشن سین کو فلم کی صورت میں پردے پر دیکھا جاتا ہے تو وہ کہیں زیادہ سنسنی خیز محسوس ہوتا ہے، جبکہ اسے خود انجام دیتے وقت اداکار کو اس کے تکنیکی پہلوؤں پر زیادہ توجہ دینی پڑتی ہے۔


