امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے امریکی فوج کے اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے انسپکٹر جنرل کی کانگریس کو پیش کی گئی نئی رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر ہتھیار استعمال ہونے سے امریکی فوج کو اہم جنگی گولہ بارود کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ دوبارہ ذخائر بھرنے میں صنعتی رکاوٹیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے 30 جون 2026 تک جاری رہنے والے آپریشن ایپک فیوری پر اندازاً 33.4 ارب ڈالر خرچ ہوئے، جس میں سے تقریباً 22.3 ارب ڈالر صرف استعمال کیے گئے ہتھیاروں پر خرچ ہوئے۔
پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل نے خبردار کیا کہ جنگ میں ہتھیاروں کے بڑے پیمانے پر استعمال نے امریکی فوج کے اسٹریٹیجک ذخائر میں کمی پیدا کر دی ہے اور ماضی کے مقابلے میں گولہ بارود کی دوبارہ تیاری اور فراہمی میں موجود صنعتی گنجائش کی رکاوٹیں نمایاں ہو گئی ہیں۔
رپورٹ میں امریکی فضائی بیڑے کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق 4 ایف-15 طیارے تباہ ہوئے، ایک ایف-35 کو نقصان پہنچا، 7 کے سی -135 ٹینکر طیارے متاثر ہوئے جبکہ 30 تک ایم کیو 9 ریپر ڈرونز تباہ ہوئے۔
یہ رپورٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات سے متصادم دکھائی دیتی ہے جن میں وہ امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کو تقریباً لامحدود قرار دیتے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے پیر کو بھی سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ امریکا اپنی تاریخ کے کسی بھی دور کے مقابلے میں زیادہ جدید اور اعلیٰ معیار کے ہتھیار تیار کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی انٹرسیپٹرز کی کمی نے بھی ایران کے خلاف امریکی فوجی حکمتِ عملی کو متاثر کیا۔ اس سے قبل امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوج اپنے تھاڈمیزائل شکن نظام کے تقریباً 80 فیصد انٹرسیپٹرز استعمال کر چکی ہے۔
جنگ کے پہلے 24 گھنٹوں میں امریکا نے ایران کے خلاف ایک ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا تھا، تاہم اس کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر حملے دوبارہ نہیں کیے گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایران کے جوابی حملوں سے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں موجود امریکی اڈوں پر سیکڑوں عمارتوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئیں۔ تاہم ان نقصانات کی لاگت کو موجودہ جنگی اخراجات میں شامل نہیں کیا گیا، کیونکہ ابھی یہ واضح نہیں کہ تمام تنصیبات دوبارہ تعمیر کی جائیں گی یا ان کی تعمیر کے اخراجات کون برداشت کرے گا۔


