خلیج فارس کی لڑائی مکہ مکرمہ تک جاپہنچی ہے۔ سعودی عرب نے مکہ مکرمہ کو مبینہ طور پر ڈرون کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔جب کہ یمن کے حوثیوں نے مکہ کی جانب ڈرون بھیجنے کی تردید کی ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق سعودی فضائی دفاع نے مبینہ ڈرون کو مکہ مکرمہ تک پہنچنے سے پہلے ناکام بنا دیا۔ جس کے بعد واقعے کے بعد خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کے تناظر میں مکہ مکرمہ کی سکیورٹی اور حرمین شریفین کے تحفظ کا معاملہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ حرمین شریفین، زائرین اور اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ریاض نے واضح کیا کہ سعودی شہریوں اور ملک میں مقیم افراد کی سلامتی بھی ریاست کی ترجیح ہے۔
عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل فہمی نے بھی مکہ مکرمہ کو مبینہ حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش کی مذمت کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مکہ مکرمہ اور اسلامی مقدس مقامات کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔
عرب لیگ کے سربراہ نے سعودی فضائیہ کی جانب سے مبینہ حملہ ناکام بنانے کو سراہتے ہوئے کہا کہ سعودی سرزمین پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملے خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مبینہ حملے کو بزدلانہ اور گھناؤنا عمل قرار دیتے ہوئے اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس حملے کا الزام سعودی قیادت والے اتحاد نے یمن کے حوثیوں پر عائد کیا ہے۔


