یورپی یونین کا کینیڈا کو ایسوسی ایٹ رکن بنانے کا عندیہ

یورپی یونین نے کینیڈا کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کی جانب بڑا قدم اٹھانے کا عندیہ دے دیا۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیئن نے کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کو تجویز دی ہے کہ کینیڈا کو یورپی یونین کا پہلا ایسوسی ایٹ ممبر بنانے کے لیے کام شروع کیا جائے۔

اس تجویز کا اعلان اسٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ صنعت، جدید ٹیکنالوجی، توانائی اور آرکٹک خطے میں مشترکہ تعاون بڑھانے کی تجاویز بھی پیشڈرک مرز نے رواں سال یوکرین کے لیے بھی ایسی ہی حیثیت کیوزہ حیثیت کی صورت میں کسی ملک کو یورپی یونین کے ساتھ قریبی ادارہ جاتی تعلق، اجلاسوں میں شرکت اور بعض پروگراموں تک رسائی مل سکتی ہے، لیکن مکمل رکن ممالک سے خطاب کے دوران کیا گیا، جہاں کینیڈین وزیراعظم بھی موجود تھے۔

ارسلوا وان ڈیر لیئن کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں یورپ اور کینیڈا کو ایک دوسرے کے مزید قریب آنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کے تعلقات صرف تجارت تک محدود نہیں رہنے چاہییں، بلکہ انہیں مستقبل کی ایک وسیع شراکت داری میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔

یورپی کمیشن کی صدر نے دفاعی صنعت، جدید ٹیکنالوجی، توانائی اور آرکٹک خطے میں مشترکہ تعاون بڑھانے کی تجاویز بھی پیش کیں۔

مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، اہم معدنیات، بیٹری ٹیکنالوجی اور اقتصادی سلامتی بھی مجوزہ تعاون کے شعبوں میں شامل ہیں۔

دوسری جانب کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کا دفتر بھی یورپی یونین کے ساتھ قریبی روابط کی اہمیت پر زور دے چکا ہے۔ تاہم ایسوسی ایٹ ممبر کی حیثیت فی الحال ایک تجویز ہے۔ یورپی یونین کے موجودہ معاہدوں میں اس نوعیت کی رکنیت کی واضح شق موجود نہیں۔

جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے رواں سال یوکرین کے لیے بھی ایسی ہی حیثیت کی تجویز پیش کی تھی، تاہم اس تصور پر مزید وضاحت اور اتفاقِ رائے درکار ہے۔

مجوزہ حیثیت کی صورت میں کسی ملک کو یورپی یونین کے ساتھ قریبی ادارہ جاتی تعلق، اجلاسوں میں شرکت اور بعض پروگراموں تک رسائی مل سکتی ہے، لیکن مکمل رکن ممالک جیسے ووٹنگ کے حقوق لازمی طور پر حاصل نہیں ہوں گے۔

یورپی یونین اور کینیڈا پہلے ہی آزاد تجارتی معاہدے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں۔

اب دونوں فریق دفاع، توانائی، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک شعبوں میں اس تعاون کو مزید وسعت دینے پر بات آگے بڑھا رہے ہیں۔