غزہ میں اسرائیلی بمباری سے متاثرہ ایک کثیرالمنزلہ عمارت اچانک زمین بوس ہوگئی۔۔حادثے میں پانچ بچوں سمیت کم از کم 20 افراد جاں بحق ہوگئے۔
اے ایف پی کے مطابق مقامی امدادی ٹیموں کے مطابق عمارت کے ملبے تلے اب بھی درجنوں افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
غزہ شہر میں پیش آنے والے واقعے کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عمارت کی متعدد منزلیں ایک دوسرے پر آ گریں۔
ریسکیو اہلکار ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق عمارت کو پہلے ہی غیر محفوظ قرار دیا جاچکا تھا۔۔
اس کے باوجود تقریباً 10 خاندان وہاں موجود اپارٹمنٹس میں رہائش پذیر تھے۔
غزہ سول ڈیفنس کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران ایک اور بڑا مسئلہ درپیش رہا۔
امدادی ٹیموں کا کہنا ہے کہ ضروری آلات غزہ میں لانے پر پابندیوں کے باعث انہیں ابتدائی طور پر خالی ہاتھ ملبہ ہٹانے اور متاثرین کو تلاش کرنے کی کوشش کرنا پڑی۔
بعد میں کچھ بھاری مشینری عارضی طور پر دستیاب ہوئی، جس سے ریسکیو آپریشن آگے بڑھایا گیا۔
دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بھی مزید ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔
صحت کے حکام اور حماس سے وابستہ ذرائع کے مطابق منگل کو مختلف حملوں میں کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک ہوئے، جن میں دو بچے اور حماس کا ایک کمانڈر بھی شامل ہے۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ میں حماس کے ایک کمانڈر جبکہ شمالی غزہ میں ایک جنگجو کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ان کارروائیوں میں بچوں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
غزہ میں جاری جنگ کے دوران تباہ حال عمارتیں اور بنیادی سہولیات کی کمی شہریوں کے لیے ایک مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔


