آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایران کا آئل ٹینکر پر حملے کا دعویٰ

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹوگو کے پرچم بردار آئل ٹینکر ٹرینڈ کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ٹینکر مبینہ طور پر آبنائے ہرمز سے غیر قانونی یا غیر مجاز طریقے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ایرانی حکام پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے غیر مجاز گزرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ تہران کا کہنا ہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے نہیں ہوسکا کہ یو کے ایم ٹی او کی جانب سے رپورٹ کیا گیا واقعہ وہی ہے جس کا ایرانی حکام نے ٹوگو کے آئ۔

آبنائے ہرمز میں ایک اور ٹینکر متاثر

دوسری جانب برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ادارے یو کے ایم ٹی او نے عمان کے قریب ایک بحری سکیورٹی واقعے کی اطلاع دی ہے۔ ادارے کے مطابق واقعے میں عملہ محفوظ رہا جبکہ کسی ماحولیاتی نقصان کی بھی اطلاع نہیں ملی۔

تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یو کے ایم ٹی او کی جانب سے رپورٹ کیا گیا واقعہ وہی ہے جس کا ایرانی حکام نے ٹوگو کے آئل ٹینکر کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔

یو کے ایم ٹی او نے ایک الگ اطلاع میں بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر نامعلوم نوعیت کے گولے یا میزائل کی زد میں آیا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔ بعد ازاں آگ پر قابو پالیاات خلیج عدن تک بھی پہنچ گئے ہیں۔ جنوبی کوریا نے اپنے بحری جہازوں اور تیل کی سپلائی لائنز کے تحفظ کے لیے خلیج عدن میں ہے کہ ملک کی معیشت اور بحری تجارت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے، تاہم ایسی کوئی فوجی تعیناتی نہیں ہوگی جو ایران کے خلاف جنگ میں براہ گیا۔

جنوبی کوریا کا بحری سکیورٹی دائرہ بڑھانے پر غور

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات خلیج عدن تک بھی پہنچ گئے ہیں۔ جنوبی کوریا نے اپنے بحری جہازوں اور تیل کی سپلائی لائنز کے تحفظ کے لیے خلیج عدن میں موجود اپنی بحری فورس کی ذمہ داریوں کا دائرہ بڑھانے پر غور شروع کردیا ہے۔

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت اور بحری تجارت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے، تاہم ایسی کوئی فوجی تعیناتی نہیں ہوگی جو ایران کے خلاف جنگ میں براہ راست شمولیت یا مداخلت تصور ہو۔

اٹلی بھی تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے متحر کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، اس لیے وہاں بحری جہازوں کو پیش آنے والے واقعات نے خطے کی سلامتی کےک

دریں اثنا اٹلی نے بھی بحیرہ احمر اور باب المندب میں اپنے تجارتی جہازوں کی سلامتی کے لیے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔

اطالوی وزیر دفاع نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ خطے کی صورتحال کے پیش نظر تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے ممکنہ سکیورٹی اقدامات اور فوجی انتظامات کا جائزہ لیا جائے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، اس لیے وہاں بحری جہازوں کو پیش آنے والے واقعات نے خطے کی سلامتی کے ساتھ عالمی توانائی اور بحری تجارت کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔