ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد موجود ہیں: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ایران سے متعلق آزاد بین الاقوامی فیکٹ فائنڈنگ مشن کے ماہرین نے کہا ہے کہ ایسے معقول شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر یہ خدشہ ظاہر کیا جاسکتا ہے کہ ایران میں دو امریکی حملوں کے دوران جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے بھی ستمبر 2026 میں ایران میں شہریوں پر امریکی فضائی حملوں کے بعد فیکٹ فائنڈنگ مشن کی کارروائی کی تصدیق کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو ایران کے شہر میناب میں ایک پرائمری اسکول اور لامرد میں ایک اسپورٹس کمپلیکس کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر ان حملوں میں امریکی ملوث ہونے کی معقول بنیاد موجود ہے۔

فیکٹ فائنڈنگ مشن کے مطابق دونوں مقامات واضح طور پر شہری نوعیت کے تھے اور وہاں فوجی استعمال کے شواہد نہیں ملے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملے شہری علاقوں میں ہوئے اور ان کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری ہلاکتیں ہوئیں، جن میں بچے بھی شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں واقعات اندھا دھند حملوں کے زمرے میں آسکتے ہیں، جس کے باعث شہری آبادی اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔

امریکا نے الزامات مسترد کردیئے

دوسری جانب امریکا نے ان نتائج کو مسترد کیا ہے۔ امریکی حکام اس سے قبل لامرد پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرچکے ہیں، جبکہ میناب کے واقعے کی تحقیقات جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

ایک امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکار نے فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ میں پیش کیے گئے نتائج کو قابلِ اعتبار تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔

ایرانی احتجاج، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بھی ذکر

اقوام متحدہ کے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں ایران کے اندر ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے خلاف حکومتی کارروائیوں پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنوری میں حکومت مخالف بڑے احتجاجی مظاہروں کے دوران ایرانی حکام کی کارروائیاں انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آنے کے شواہد فراہم کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے ہلاکتیں ملک کے تمام 31 صوبوں میں ہوئیں اور ان کا پیمانہ غیر معمولی قرار دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ایران سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ مشن کو اس سے قبل بھی انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی دستاویز بندی اور شواہد محفوظ کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا تھا۔

ایران نے تازہ رپورٹ پر تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا، تاہم تہران ماضی میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔