چین، انڈونیشیا میں کرکٹ کا فروغ:آئی سی سی کی نظریں 50 کروڑ نئے شائقین پر

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے دنیا بھر میں کرکٹ کے مداحوں کی تعداد بڑھانے کے لیے چین کو اہم مارکیٹ قرار دے دیا۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو سنجوگ گپتا کے مطابق عالمی سطح پر کرکٹ کے ایک ارب سے زائد شائقین میں تقریباً 90 فیصد کا تعلق جنوبی ایشیا سے ہے، تاہم آئی سی سی عالمی فین بیس میں مزید 50 کروڑ افراد کا اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ چین کی تقریباً ایک ارب 40 کروڑ آبادی اس مقصد کے لیے ایک بڑی ممکنہ مارکیٹ سمجھی جا رہی ہے۔

آئی سی سی کے مطابق چین میں خواتین کی کرکٹ ٹیم کی مسلسل بہتری نے ملک میں کھیل کی مقبولیت کو تقویت دی ہے۔ گزشتہ دو برس میں چینی خواتین ٹیم عالمی رینکنگ میں 10 درجے اوپر آئی ہے۔

چین میں کرکٹ کی جانب توجہ 2022 کے ایشین گیمز کے دوران ہانگژو میں کرکٹ مقابلوں کے انعقاد کے بعد مزید بڑھی۔ تاہم عالمی ٹی20 رینکنگ میں چین کی خواتین ٹیم 36ویں جبکہ مردوں کی ٹیم 92ویں نمبر پر ہے۔

رواں ایشین گیمز میں بھی چینی خواتین ٹیم کا سفر بارش کے باعث بغیر گیند کھیلے ختم ہوگیا۔ ناگویا جاپان میں مسلسل بارش سے آؤٹ فیلڈ ناقابلِ استعمال ہونے کے باعث بنگلا دیش کے خلاف کوارٹر فائنل میچ نہ ہوسکا اور بہتر رینکنگ کی بنیاد پر بنگلا دیش سیمی فائنل میں پہنچ گیا۔

آئی سی سی گزشتہ پانچ برس کے دوران چین میں کرکٹ کے فروغ کے لیے 15 لاکھ ڈالر خرچ کرچکی ہے۔ ملک میں اس وقت تین اعلیٰ معیار کے کرکٹ وینیوز موجود ہیں، جبکہ تائی چانگ میں نیا اسٹیڈیم بھی تیار کیا گیا ہے۔

آئی سی سی کے مطابق چین میں کرکٹ کی مقبولیت جانچنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں۔ خواتین کے ٹی20 ورلڈ کپ کے بعض میچز چینی زبان میں نشر کیے گئے، جبکہ 2026 کے مردوں کے ٹی20 ورلڈ کپ کے۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ اگر چین اور انڈونیشیا کی آبادی کے کچھ حصے بھی کرکٹ سے جڑ جاتے ہیں تو یہ کھیل کے عالمی فین بیس میں بڑی توسیع کا باعث بن سکتے ہیں۔

انڈونیشیا بھی آئی سی سی کی نظر میں کرکٹ کے لیے ایک ممکنہ نئی مارکیٹ ہے۔ تقریباً 28 کروڑ آبادی والے اس ملک کی مردوں کی ٹی20 ٹیم 63ویں جبکہ خواتین کی ٹیم 23ویں نمبر پر ہے۔

آئی سی سی کو توقع ہے کہ 2028 لاس اینجلس اولمپکس میں کرکٹ کی واپسی سے کھیل کو مزید عالمی پذیرائی ملے گی۔ مردوں اور خواتین کے ٹی20 مقابلوں میں اولمپک تمغے دیے جائیں گے۔

کرکٹ کو روایتی مراکز جنوبی ایشیا، انگلینڈ اور آسٹریلیا سے باہر پھیلانے کی کوششوں میں اٹلی سمیت دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔ رواں برس اٹلی نے پہلی مرتبہ مردوں کے ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کی اور نیپال کو شکست دینے کے ساتھ انگلینڈ کو بھی سخت مقابلہ دیا۔

میری لی بون کرکٹ کلب (ایم سی سی) نے بھی چین میں کرکٹ کے فروغ کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ ایم سی سی کے مطابق اس کی خواتین ٹیم 2027 میں چین کا دورہ کرے گی، جسے ملک میں کرکٹ کے فروغ کا اہم موقع قرار دیا گیا ہے۔