دنیا ایک ایسے وقت میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کی جانب بڑھ رہی ہے جب مشرقِ وسطیٰ، یوکرین اور سوڈان میں جنگیں جاری ہیں، عالمی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نئے خطرات اور سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
منگل سے نیویارک میں شروع ہونے والے اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں دنیا بھر کے رہنما شریک ہوں گے۔ رواں سال کا اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب عالمی سفارت کاری کو کئی بڑے بحرانوں کا بیک وقت سامنا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ سب سے بڑا سفارتی چیلنج
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ اور اس کے عالمی اثرات اس سال جنرل اسمبلی کے اجلاس پر غالب رہنے کی توقع ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی کی کوششیں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع بھی عالمی رہنماؤں کے درمیان اہم اور متنازع موضوعات ہوں گے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اجلاس سے قبل دنیا کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں حالات مسلسل خراب ہورہے ہیں، جس سے ایک بڑے دھماکے جیسے بحران کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو بھی اقوام متحدہ کے اجلاس میں مختصر دورے کے لیے شرکت متوقع ہے، جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس اور دیگر فلسطینی رہنماؤں کو مسلسل دوسرے سال امریکی ویزے نہ ملنے کا معاملہ بھی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔
یوکرین بھی عالمی توجہ کا مرکز
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی اپنے ملک کی دفاعی ضروریات پر عالمی برادری کی توجہ برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔
روسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر یوکرین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں کے بعد روس کی جوابی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ ایسے میں یوکرین جنگزی سے ترقی کرتی اے آئی ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات پر ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ شخصیات کی جانب سے خدشات کے اظہار کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک کے سفارتی حل اور دفاعی تعاون کا معاملہ عالمی رہنماؤں کی گفتگو میں نمایاں رہنے کی توقع ہے۔
اے آئی پر ہنگامی اجلاس
اس بار اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں مصنوعی ذہانت بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
تیزی سے ترقی کرتی اے آئی ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات پر ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ شخصیات کی جانب سے خدشات کے اظہار کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک ہنگامی اجلاس بھی متوقع ہے۔
اے آئی گورننس کے ماہر نکولس میاہلے کے مطابق جنرل اسمبلی کا موجودہ اجلاس اس بات پر عالمی منصوبہ بندی کی ابتدا بن سکتا ہے کہ اے آئی صنعت کی حفاظتی یقین دہ زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا مصنوعی ذہانت کی حفاظت کے معاملے میں ایک دوسرے سے نیچے جانے کی دوڑ کی متحملانیوں کی نگرانی کون کرے گا اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔
امریکا اور چین کی اے آئی دوڑ
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکا اور چین کے درمیان سخت مقابلہ بھی اقوام متحدہ کے اجلاس کے پس منظر میں موجود ہوگا۔
سیکریٹری جنرل گوتریس نے عالمی ممالک پر اے آئی سیفٹی کے معاملے میں تعاون بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا مصنوعی ذہانت کی حفاظت کے معاملے میں ایک دوسرے سے نیچے جانے کی دوڑ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔
چین کے صدر شی جن پنگ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن جائیں گے۔ روس اور ایران کے لیے چین کی حمایت بھی عالمی طاقتوں کے درمیان گفتگو کا اہم موضوع بن سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کی قیادت بھی زیر بحث
دنیا کے بحرانوں کے ساتھ اقوام متحدہ کا اپنا مستقبل بھی پس پردہ سفارتی مذاکرات کا اہم موضوع ہوگا۔
سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی دوسری پانچ سالہ مدت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہورہی ہے۔ ان کے جانشین کے انتخاب کے لیے اقوام متحدہ کی ویٹو پاور رکھنے والی طاقتیں، یعنی امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس، ممکنہ امیدواروں پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرسکتی ہیں۔
تاہم ایک یورپی سفارت کار کے مطابق انتخابی عمل اب تک زیادہ کامیاب نہیں رہا اور کسی اتفاق رائے کے آثار واضح نہیں۔
موسمیاتی تبدیلی بھی ایجنڈے میں
موسمیاتی تبدیلی کا معاملہ بھی جنرل اسمبلی کے ساتھ ساتھ نیویارک میں ہونے والی کلائمیٹ ویک سرگرمیوں کا اہم حصہ ہوگا۔
دنیا کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹنے اور شدید موسمی واقعات میں اضافے کے باعث گوتریس عالمی ماحولیاتی اقدامات پر زور دیں گے۔ سمندر کی سطح میں اضافے سے متعلق خصوصی اجلاس بھی ہوگا، جو کم بلندی والے جزیرہحولیاتی نقصانات کے ساتھ اس ٹیکنالوجی کو موسمیاتی اقدامات میں ممکنہ طور پر استعمال کرنے کے امکانات نما ممالک کے لیے انتہائی اہم مسئلہ ہے۔
اے آئی اور ماحولیات کا تعلق بھی زیر بحث آئے گا، جہاں مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی نقصانات کے ساتھ اس ٹیکنالوجی کو موسمیاتی اقدامات میں ممکنہ طور پر استعمال کرنے کے امکانات پر بھی بات ہوگی۔
یوں اقوام متحدہ کا رواں سال کا اجلاس جنگوں، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی ادارے کی اپنی قیادت کے مستقبل جیسے بڑے سوالات کو ایک ہی میز پر لے آئے گا۔


