پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے 37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سردار سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے 14 ستمبر کو کیس کا فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سیاسی جماعتوں کو پُرامن اجتماع اور سیاسی اختلاف کا آئینی حق حاصل ہے، تاہم احتجاج کا حق آئین اور قانون کے تابع ہے۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیاسی احتجاج کے حق اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے درمیان آئینی توازن ضروری ہے۔ شہریوں کے جان، آزادی، عزت، آزادانہ نقل و حرکت اور کاروبار کے حقوق بھی آئین کے تحت محفوظ ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ اسلام آباد کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔ ایسی سرگرمی جس سے بنیادی حقوق متاثر ہوں، اس کے ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔
فیصلے کے مطابق اگر کسی سرکاری عہدیدار کی وجہ سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے تو اسے حلف کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ آئین اور قانون کی خلاف ورزی کے ذمہ دار سرکاری افراد کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
عدالت نے واضح کیا کہ اسلام آباد میں آئینی اداروں کے معمول کے کام کا تسلسل بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ شہریوں کو اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور عدالتوں تک رسائی کا حق حاصل ہے۔
تفصیلی فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 15، 16 اور 17 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ شہریوں کو ملک میں آزادانہ نقل و حرکت، پُرامن اور بغیر اسلحہ اجتماع اور انجمنیں و یونینز بنانے کا حق حاصل ہے۔
عدالت کے مطابق اجتماع پر پابندی صرف قانون کے تحت اور مفادِ عامہ میں معقول حد تک عائد کی جاسکتی ہے، جبکہ آزادیِ اجتماع پر پابندیاں عوامی نظم و ضبط کے مفاد میں قانون کے مطابق ہونی چاہئیں۔
عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ہائیکورٹ قبل از وقت سیاسی احتجاج کے معاملے میں کس حد تک مداخلت کرسکتی ہے۔
دوسری جانب عدالت نے واضح کیا کہ کسی سیاسی جماعت یا عوامی عہدیدار کو اسلام آباد میں شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے یا سڑکیں اور دیگر عوامی مقامات اس انداز میں بند کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوں۔
عدالت نے صوبائی حکومتوں کو بھی ہدایت کی تھی کہ کسی سیاسی مارچ، جلوس یا احتجاج کے لیے سرکاری وسائل، سرکاری گاڑیاں، مشینری یا ملازمین استعمال نہ کیے جائیں۔
فیصلے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ سیاسی اختلاف اور پُرامن احتجاج آئینی حقوق ہیں، تاہم ان حقوق کا استعمال قانون اور دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا ضروری ہے۔


