پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ سے باضابطہ رہنمائی طلب کرلی، معاملے میں موبائل فون طلب کیے جانے، برطانیہ سے پاکستان منتقلی اور فرانزک معائنے کے طریقۂ کار پر وضاحت مانگ لی۔
محمد رضوان نے آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے آن لائن پورٹل پر درخواست جمع کراتے ہوئے دریافت کیا کہ کیا آئی سی سی یا انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کی اینٹی کرپشن یونٹ اس کارروائی سے آگاہ تھی یا اس میں شامل تھی؟
وکٹ کیپر بیٹر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ان سے موبائل فون طلب کرنے اور اسے برطانیہ سے پاکستان منتقل کرنے کا عمل آئی سی سی اینٹی کرپشن کوڈ کے مطابق تھا یا نہیں، جبکہ فون کے فرانزک معائنے کے طریقۂ کار سے متعلق بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔
محمد رضوان کا کہنا ہے کہ انہیں آج تک یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کس آن لائن جوئے یا مبینہ سرگرمی سے منسوب کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے آئی سی سی سے آئندہ اینٹی کرپشن معاملات میں تعاون کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں اور متعلقہ طریقۂ کار کی بھی وضاحت مانگی ہے۔
محمد رضوان نے واضح کیا کہ ان کی درخواست کسی ادارے یا فرد کے خلاف شکایت نہیں بلکہ معاملے کے طریقۂ کار اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے لیے وضاحت طلب کرنے کی کوشش


