ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ صرف جوہری معاملہ نہیں بلکہ گزشتہ معاہدوں پر عمل درآمد سے متعلق اعتماد کا بحران بھی بن چکا ہے۔ ایرانی امور کے محقق عباس اصلانی کے مطابق تہران آئندہ کسی بھی سمجھوتے کے لیے امریکا کی جانب سے سابقہ معاہدوں کی پاسداری کو بنیادی اہمیت دے گا۔
مشرق وسطیٰ اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹر سے وابستہ محقق عباس اصلانی نے کہا ہے کہ ایران کی مذاکرات پر آمادگی اس بات سے جڑی ہے کہ ماضی کے معاہدوں اور مفاہمتوں سے حاصل ہونے والے تجربات مستقبل کے کسی بھی سمجھوتے پر کتنا اعتماد پیدا کرتے ہیں۔
اصلانی نے خاص طور پر 2015 کے جوہری معاہدے سے امریکا کی دستبرداری کو بطور مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے ایران میں یہ سوال مزید گہرا کیا کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی نئے معاہدے کی صورت میں اس کی ضمانت اور پائیداری کیا ہوگی۔
ان کے مطابق ماضی کے معاہدوں میں ایران کی جانب سے بعض اقدامات کیے گئے، تاہم تہران کے مطابق ان کے مقابل مطلوبہ اقدامات مکمل طور پر سامنے نہیں آئے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایک مفاہمت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے آبنائے کے راستے کو کھولنے پر آمادگی ظاہر کی اور اس کا تقریباً 60 فیصد حصہ دوبارہ کھولا گیا۔
اصلانی نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی پہلی شق میں خطے میں جاری کشیدگی اور دشمنی ختم کرنے کی بات کی گئی تھی، جس میں لبنان بھی شامل تھا، تاہم ان کے بقول اسرائیل کی جانب سے اس حوالے سے مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوئی۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ معاہدے کی پانچویں شق کے تحت آبنائے ہرمز میں ٹرانزٹ روٹس کے تعین کا اختیار ایران کے پاس ہونا تھا، لیکن عملی صورتحال اس کے مطابق نہیں رہی۔
جوہری مذاکرات پر اعتماد کا سوال
ایرانی مؤقف کے مطابق ان تجربات کا براہ راست اثر مستقبل کے جوہری مذاکرات پر پڑ سکتا ہے۔ اصلانی کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق مزید رعایتیں دینا اس وقت مشکل ہوگا جب تہران کو یہ یقین دہانی حاصل نہ ہو کہ کسی نئے معاہدے کے بعد ماضی کی طرح صورتحال دوبارہ فوجی کارروائی تک نہیں پہنچے گی۔
ان کے مطابق ایران کو خدشہ ہے کہ اگر وہ کسی نئے سمجھوتے پر پہنچتا ہے تو معاہدہ ختم ہونے کے بعد دوبارہ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تہران کے لیے کسی بھی نئے سمجھوتے میں صرف پابندیوں میں نرمی یا جوہری معاملات ہی اہم نہیں بلکہ معاہدے کی پائیداری، فریقین کی ذمہ داریوں اور اس پر عمل درآمد کی ضمانت بھی اہم سوالات بن چکے ہیں۔
ماضی کے جوہری معاہدے سے امریکا کی علیحدگی کے بعد پیدا ہونے والے اختلافات نے ایران اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد کی کمی کو نمایاں کیا۔ اسی پس منظر میں مستقبل کے کسی بھی مذاکرات میں ایران کی جانب سے ممکنہ رعایتوں کے مقابل امریکی یقین دہانیوں اور عملی اقدامات کو بھی اہمیت دی جائے گی۔
تاہم اصلانی کے بیانات ایران کے مؤقف اور اس کے مذاکراتی تحفظات کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ان مخصوص شقوں اور دعووں کی اپنی تشریحات ہو سکتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں کسی نئے معاہدے کی کامیابی کا انحصار صرف جوہری مسئلے کے حل پر نہیں بلکہ فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور طے شدہ شرائط پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بھی ہوگا۔


