یمن میں سرکاری فورسز کی حوثیوں کے خلاف پیش قدمی: کئی مقامات واپس لینے کا دعویٰ

یمن میں حکومتی فورسز نے طائز شہر کے مغربی اور جنوبی اطراف میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعدد اگلے مورچے اور اہم پوزیشنیں دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

طائز فوجی فورس کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالعزیز المجیدی نے سرکاری خبر رساں ادارے ’سبا‘ کو بتایا کہ حکومتی فوج اور اس کے اتحادی قبائلی جنگجوؤں نے شہر کے مضافاتی علاقوں میں حوثی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے بعد متعدد علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا۔

ان کے مطابق لڑائی کے دوران حوثی جنگجوؤں کو جانی نقصان کے ساتھ ساتھ فوجی سازوسامان کا بھی نقصان اٹھانا پڑا، تاہم انہوں نے ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی تعداد نہیں بتائی۔

یمنی کمانڈر کا کہنا تھا کہ حکومتی فورسز نے حوثیوں کی جانب سے طائز کی جانب پیش قدمی کی کوشش کو بھی پسپا کردیا۔ ان کے مطابق اس پیش قدمی کا مقصد شہر کا محاصرہ مزید سخت کرنا تھا۔

طائز کیوں اہم ہے؟

یمن کا تیسرا بڑا شہر طائز طویل عرصے سے ملک میں جاری جنگ کے اہم محاذوں میں شمار ہوتا ہے۔ 2015 سے شہر اور اس کے گردونواح میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت اور حوثی فورسز کے درمیان محاذ آرائی جاری ہے اور شہر مختلف جنگی لائنوں میں تقسیم ہے۔

تازہ جھڑپیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب یمن میں طویل عرصے سے جاری تنازع کے باوجود مختلف محاذوں پر وقفے وقفے سے فوجی کشیدگی دیکھنے میں آتی رہی ہے۔

حکومتی فورسز کی جانب سے طائز کے اطراف میں پوزیشنیں واپس لینے کا دعویٰ اگر برقرار رہتا ہے تو اس سے شہر کے گرد موجود محاذ کی زمینی صورتحال پر اثر پڑ سکتا ہے، تاہم تازہ پیش رفت کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔