بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں مقامی ٹی 20 ٹورنامنٹ دہلی پریمیئر لیگ (ڈی پی ایل) کے حالیہ سیزن میں کرپشن اور اسپاٹ فکسنگ کے الزامات سامنے آنے کے بعد دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈی ڈی سی اے) نے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ حکام سے رجوع کرلیا۔
ڈی ڈی سی اے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سامنے آنے والے الزامات غیر مصدقہ ہیں اور کسی مجاز ادارے کی جانب سے ثابت نہیں ہوئے، اس لیے محض الزامات کی بنیاد پر کسی کھلاڑی، فرد یا فرنچائز کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
یہ پیش رفت ایک تحقیقاتی رپورٹ کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی، جس میں سابق رنجی ٹرافی کرکٹر نے دعویٰ کیا کہ اسے ٹیم سے متعلق اندرونی معلومات تک رسائی حاصل تھی اور وہ ڈی پی ایل میں اسپاٹ فکسنگ کرانے میں سہولت فراہم کرسکتا تھا۔
ڈی ڈی سی اے کے مطابق اس نے معاملے سے متعلق موصول ہونے والی معلومات متعلقہ حکام کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے مناسب اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت معاملے کی جانچ کی درخواست کی ہے۔
ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ الزامات اور ثابت شدہ حقائق میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے اور معاملے کو قانونی و ادارہ جاتی طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ ڈی ڈی سی اے نے دہلی کی کرکٹ کی ساکھ اور شفافیت کے تحفظ کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
ڈی پی ایل 2026 سیزن 31 جولائی سے 30 اگست تک جاری رہا، جس میں 8 ٹیموں نے شرکت کی۔ فائنل میں ساؤتھ دہلی سپر اسٹارز نے سینٹرل دہلی کنگز کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔


