امریکا میں رواں برس نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل مصنوعی ذہانت سے تیار کیے گئے سیاسی اشتہارات تیزی سے پھیل رہے ہیں، جن میں سیاست دانوں کو ایسے مناظر اور بیانات میں دکھایا جا رہا ہے جو حقیقت میں کبھی پیش ہی نہیں آئے۔
حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی ایک اے آئی ویڈیو میں ٹیکساس سے امریکی سینیٹ کے امیدوار جیمز ٹلاریکو کو مذہب اور صنف کے بارے میں متنازع گفتگو کرتے اور بائبل پر رنگین کریون سے لکھتے ہوئے دکھایا گیا۔ تاہم یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی تھی اور ٹلاریکو نے ایسا کوئی منظر فلمایا ہی نہیں تھا۔
یہ اشتہار ریپبلکن سینیٹ امیدوار کین پیکسٹن نے ایکس پر پوسٹ کیا۔ ویڈیو میں ٹلاریکو سے منسوب ایک جعلی جملہ بھی شامل تھا، جبکہ اسکرین پر انہیں ٹیکساس اور امریکا کے لیے ناموزوں قرار دینے امیدوار کے بارے میں جھوٹ پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے والا پیغام اور عطیات کے لیے کیو آر کوڈ دکھایا گیا۔
ٹلاریکو نے اشتہار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں انتخابی امیدوار کے بارے میں جھوٹ پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سیاسی مہمات میں ڈیپ فیک مواد پر پابندی کی حمایت بھی کی۔
سیاسی حملوں میں اے آئی کا بڑھتا استعمال
یہ واحد مثال نہیں۔ اس سے چند ہفتے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسلک ایک قدامت پسند غیر منافع بخش گروپ نے بھی اے آئی سے تیار کردہ ایک ویڈیو جاری کی، جس میں ٹلاریکو کو معروف فلم دی ساؤنڈ آن میوزک کے کردار کی پیروڈی کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
امریکی وفاقی، ریاستی اور مقامی انتخابات میں اے آئی سے تیار یا بہتر کیے گئے سیاسی اشتہارات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ویزلیان میڈیا پروجیکٹ کے مطابق رواں سال اب تک ملک بھر میں کم از کم 164 ایسے سیاسی اشتہارات کی نشاندہی ہوئی ہے جن میں اے آئی استعمال کیا گیا۔ ان اشتہارات پر مجموعی طور پر تقریباً 8 کروڑ ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔
یہ تعداد حتمی نہیں، کیونکہ بعض اشتہارات کے بارے میں یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ ان کی تیاری میں اے آئی استعمال ہوئی یا نہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وفاقی سطح پر سیاسی اشتہاراتیک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر سارہ کریپس کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگ جعلی اشتہارات کو سچ سمجھ سکتے ہیں۔ ان کےقی ویڈیو یا بیان کو بھی یہ کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے کہ یہ شاید ڈیپ فیک ہو۔ ماہرین کے مطابق اس سے انتخابی معلومات کے پورے ماحول میں اعتماد متاثر ہونے اور ووٹرز کے سیاسی مواد سے سیاسی اشتہارات بنانے کے حامی یا اس ٹیکنالوجی کے غیر مزاحمتی استعمال پر بات کرنے والے ماہرین اس کے دوسرے پہلو کی بھیابیل لنزر کے مطابق اے آئی کی مدد سے اشتہار بنانے کے لیے کیمرہ ٹیم، اداکاروں یا مہنگے اسپیشل ایفیکٹس کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ اس سے محدود وقت اور بج پر اے آئی کے استعمال کی لازمی وضاحت کا کوئی عمومی تقاضا موجود نہیں۔
اصل خطرہ صرف جعلی ویڈیو نہیں
کارنیل یونیورسٹی کے ٹیک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر سارہ کریپس کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگ جعلی اشتہارات کو سچ سمجھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مسلسل اے آئی مواد دیکھنے سے لوگ حقیقی مواد پر بھی شک کرنا شروع کر سکتے ہیں۔
اس صورتحال میں کسی حقیقی ویڈیو یا بیان کو بھی یہ کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے کہ یہ شاید ڈیپ فیک ہو۔ ماہرین کے مطابق اس سے انتخابی معلومات کے پورے ماحول میں اعتماد متاثر ہونے اور ووٹرز کے سیاسی مواد سے لاتعلق ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
غیر منافع بخش تنظیم پبلک سیٹیزن سے وابستہ ایلانا بیلر نے بھی کہا کہ صرف یہ حقیقت کہ اے آئی اب عام ناظرین کو دھوکا دینے کی حد تک بہتر ہو چکی ہے اور اسے انتخابی رابطوں میں استعمال کیا جا رہا ہے، انتخابی معلومات پر اعتماد کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
کم خرچ، زیادہ تیزی اور تخلیقی امکانات
اے آئی سے سیاسی اشتہارات بنانے کے حامی یا اس ٹیکنالوجی کے غیر مزاحمتی استعمال پر بات کرنے والے ماہرین اس کے دوسرے پہلو کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔
مرکز برائے جمہوریت و ٹیکنالوجی کی غیر جانب دار ماہر ازابیل لنزر کے مطابق اے آئی کی مدد سے اشتہار بنانے کے لیے کیمرہ ٹیم، اداکاروں یا مہنگے اسپیشل ایفیکٹس کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ اس سے محدود وقت اور بجٹ میں بھی سیاسی مواد تیار کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
ان کے مطابق بعض طنزیہ یا مزاحیہ اے آئی اشتہارات کو جدید سیاسی کارٹون کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
نیویارک یونیورسٹی کے مرکز برائے ٹیکنالوجی پالیسی کے ڈائریکٹر اسکاٹ بابوا برینن کے مطابق اے آئی سے تیار کردہ اشتہارات امیدواروں کو چند اہم مقاصد، مثلاً عطیات جمع کرنے اور حامیوں کو متحرک کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، لیکن اس بات کے شواہد محدود ہیں کہ یہ اشتہارات لوگوں کے ووٹ کے فیصلے پر براہ راست کتنا اثر ڈالتے ہیں۔
ان کے مطابق اے آئی مواد لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں مؤثر دکھائی دیتا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کہ توجہ حاصل ہونا لازماً انتخابی نتائج میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔
ماہرین نے یہ امکان بھی زیرِ بحث لایا ہے کہ اے آئی سے بنائے گئے منفی حملہ آور اشتہارات بعض صورتوں میں انہیں بنانے والے امیدوار یا گروپ کے بارے میں عوامی تاثر پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب اے آئی کے استعمال کے بارے میں عوامی تشویش بڑھ رہی ہے۔


