نیویارک میں اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف احتجاج، ہالی ووڈ اداکارائیں گرفتار

نیویارک: امریکی شہر نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دورۂ اقوام متحدہ اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کے دوران معروف امریکی اداکاراؤں سمیت 100 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔

جیوش وائس فار پیس نامی تنظیم کی قیادت میں کیا گیا یہ احتجاج نیتن یاہو کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سے قبل کیا گیا۔

احتجاج میں یہودی، فلسطینی، ایرانی، لبنانی اور دیگر پس منظر رکھنے والے کارکنوں کے علاوہ متعدد معروف فنکار اور مقامی سیاسی شخصیات بھی شریک ہوئیں۔

حراست میں لیے جانے والوں میں آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ سوزن سارینڈن اور ہنّا آئن بائنڈر شامل تھیں۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو ہتھکڑیاں لگا کر پولیس گاڑیوں تک لے جانے کی ویڈیوز بھی سامنے آئیں۔

مظاہرین نے ’’فری فلسطین‘‘ اور اسرائیل کو امریکی فوجی امداد روکنے سمیت مختلف مطالبات پر مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ احتجاج میں شریک افراد نے اقوام متحدہ کے قریب سڑک پر دھرنا دیا، جس کے باعث ٹریفک متاثر ہوئی۔

پولیس کا مؤقف

نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اہلکاروں نے مظاہرین کو سڑک اور چوراہا خالی کرنے کے لیے متعدد مرتبہ متنبہ کیا۔ پولیس کے مطابق کچھ افراد نے انتباہ کے باوجود راستہ خالی نہیں کیا، جس کے بعد انہیں حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے ابتدائی طور پر گرفتار ہونے والوں کی حتمی تعداد نہیں بتائی۔

دوسری جانب احتجاج کی منتظم تنظیم نے دعویٰ کیا کہ 100 سے زیادہ افراد گرفتار ہوئے۔ تنظیم کے مطابق تقریباً 400 افراد نے اقوام متحدہ کے باہر دھرنے میں شرکت کی۔ گرفتاریوں کی تعداد کے حوالے سے پولیس اور منتظمین کے اعداد و شمار میں فرق موجود ہے۔

اداکاراؤں کا احتجاج

ہنّا آئن بائنڈر نے گرفتاری کے وقت نیتن یاہو کے خلاف نعرہ لگایا۔ بعد ازاں انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی گرفتاری کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ توجہ مظاہرے میں شریک مشہور شخصیات کے بجائے غزہ کی صورتحال پر رہنی چاہیے۔ وہ اس سے قبل بھی فلسطینیوں کے حق میں عوامی طور پر اظہارِ خیال کرتی رہی ہیں۔سوزن سارینڈن بھی غزہ جنگ کے حوالے سے اسرائیلی پالیسیوں کی ناقد رہی ہیں اور حالیہ برسوں میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں شریک ہوتی رہی ہیں۔

احتجاج میں اداکارہ سنتھیا نکسن، ایلیٹ پیج، انڈیا مور اور دیگر فنکار بھی شریک ہوئے، تاہم دستیاب رپورٹس کے مطابق ان میں سے سب کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے اندر بھی احتجاج

اسی دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نیتن یاہو کی تقریر شروع ہونے پر مختلف ممالک کے متعدد نمائندے اجلاس سے باہر چلے گئے۔ نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات کو مسترد کیا اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کا دفاع کیا۔

یوں ایک ہی وقت میں اقوام متحدہ کے باہر سڑکوں پر احتجاج اور جنرل اسمبلی کے اندر سفارتی ردعمل نے نیتن یاہو کے دورے کو شدید سیاسی اور عوامی مخالفت کے ماحول میں تبدیل کردیا۔

احتجاج کا بڑا پس منظر

نیویارک کا یہ مظاہرہ محض ایک شخصیت کے دورے کے خلاف احتجاج تک محدود نہیں تھا۔ مظاہرین نے غزہ میں جنگ، اسرائیل کو امریکی فوجی امداد اور فلسطینیوں کی صورتحال کو اپنے احتجاج کا مرکزی موضوع بنایا۔ دوسری طرف امریکی اور اسرائیلی حکام غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کا دفاع کرتے ہیں اور ان پر عائد بعض الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

اس واقعے نے ایک بار پھر امریکی سرزمین پر فلسطین اور اسرائیل سے متعلق شدید سیاسی تقسیم، احتجاج کے حق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات کے درمیان توازن پر بحث کو نمایاں کردیا ہے۔