جاپان کے 90 سالہ توشیسوکے کانازاوا نے عمر کے بارے میں عام تصور کو چیلنج کرتے ہوئے حال ہی میں ایک ماسٹر باڈی بلڈنگ مقابلے میں ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔
کانازاوا کا تعلق جاپان کے صوبہ شیمانے سے ہے، جہاں وہ 1936 میں پیدا ہوئے۔ انہیں بچپن ہی سے تیراکی اور ریسلنگ کا شوق تھا۔ ہائی اسکول کے زمانے میں کھیلوں میں پہلا میڈل حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کھیل کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنا لیا۔
وہ تقریباً 30 سال کی عمر تک ریسلنگ کرتے رہے، تاہم بعد میں اسے چھوڑ دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے 50 سال کی عمر میں دوبارہ باڈی بلڈنگ شروع کی۔ ان کے مطابق اس کی ایک وجہ اپنی اہلیہ کو بھی ورزش کے لیے حوصلہ دینا تھی۔
آج 90 برس کی عمر میں بھی کانازاوا کا معمول کافی فعال ہے۔ وہ روزانہ جم جاتے ہیں اور وزن اٹھانے کی مشق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا جسم کسی مصنوعی طریقے کے بجائے باقاعدہ ورزش اور خوراک کے ذریعے برقرار ہے۔
خوراک میں کیا شامل ہے؟
کانازاوا کے مطابق انہوں نے مچھلی اور گوشت کھانا چھوڑ دیا ہے، جبکہ شراب سے بھی ہمیشہ دور رہے ہیں۔ ان کی موجودہ خوراک میں بنیادی طور پر براؤن رائس شامل ہے، جس کے ساتھ فُریکاکے، نَٹو اور مسو سوپ لیا جاتا ہے۔۔
پروٹین کے لیے وہ روزانہ تین پروٹین شیکس استعمال کرتے ہیں۔ ماضی میں ان کی تعداد چھ تک تھی، جسے بعد میں کم کردیا گیا۔
نیند کو بھی وہ اپنے معمول کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں اور روزانہ تقریباً سات گھنٹے سوتے ہیں۔
کانازاوا کی کہانی اگرچہ غیر معمولی ہے، لیکن ان کا معمول اس بات کی مثال پیش کرتا ہے کہ عمر بڑھنے کے باوجود جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرزِ زندگی کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ تاہم ان کی خوراک یا ورزش کو ہر عمر کے فرد کے لیے یکساں فٹنس نسخہ سمجھنا درست نہیں؛ خاص طور پر بڑی عمر میں ورزش اور غذائی تبدیلیاں فرد کی صحت اور طبی ضروریات کے مطابق ہونی چاہئیں۔


