کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے مذہب کے نام پر تشدد اور جبر کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خدا کے نام کو تشدد یا ظلم کے جواز کے طور پر استعمال کرنا اس نام کی توہین ہے۔
فرانس کے شہر میتز میں مختلف مذاہب کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ مذہبی گفتگو اور تعلیمات کو دلوں اور الفاظ کو ’غیر مسلح‘ کرنے اور امن کے فروغ میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی عمل جو انسانی وقار کو مجروح کرے، اسے حقیقی معنوں میں خدا کی طرف سے متاثر یا مذہبی تعلیمات سے ہم آہنگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
پوپ لیو نے کہا کہ یورپ میں جنگ دوبارہ لوٹ آئی ہے اور اس کے نتیجے میں روزانہ بڑی تعداد میں شہری جان سے جا رہے ہیں۔
انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کرنے والے فریقین پر زور دیا کہ امن کے حصول کے لیے انہیں اپنے بعض مؤقف سے پیچھے ہٹنے اور سمجھوتے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
پوپ لیو کا کہنا تھا کہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں صرف اپنے مؤقف پر اصرار کے بجائے امن کے وسیع تر مقصد کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے یورپ کےکثیرالثقافتی معاشرے اور یورپی انضمام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کو اس طرح اپنے معاشروں میں شامل کیا جائے جیسے وہ اپنے خاندان کا حصہ ہوں۔ مختلف لوگوں اور ثقافتوں کے ساتھ مکالمہ یورپ کے لیے محض ایک انتخاب نہیں بلکہ سماجی اور سیاسی ضرورت ہے۔
پوپ لیو کا کہنا تھا کہ مختلف مذاہب کی روایات کے محافظ ہونے کے ناتے مذہبی رہنماؤں کی براہِ راست ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے معاشروں میں نفرت اور تشدد کے بجائے امن اور باہمی احترام کو فروغ دیں۔
پوپ لیو نے یورپ پر زور دیا کہ وہ اپنی مسیحی تاریخ کو بھی یاد رکھے اور آزادی، جمہوریت اور اتحاد جیسے اصولوں کو محض نعروں تک محدود نہ رکھے بلکہ انہیں عملی شکل دے۔
انہوں نے کہا کہ یورپ نے اس وقت ترقی کی جب اس نے اپنے ماضی کے بہترین پہلوؤں سے استفادہ کرتے ہوئے دوسروں کے ساتھ روابط اور میل جول کے ذریعے انہیں نئے اور تخلیقی انداز میں آگے بڑھایا۔


