کراچی : کراچی کے علاقے گلشن اقبال سے تعلق رکھنے والا 22 سالہ نوجوان مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا غلط استعمال کرنے پر بین الاقوامی اداروں کی نظروں میں آ گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نوجوان نے گزشتہ ہفتے ایک مشہور اے آئی چیٹ بوٹ سے قتل سے متعلق غیر قانونی اور خطرناک سوالات پوچھے تھے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق آج کل تمام بڑی اے آئی کمپنیاں اپنے سسٹم میں ایک خودکار فلٹر لگاتی ہیں۔ جیسے ہی کوئی صارف تشدد، قتل، بم بنانے یا کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے بارے میں پوچھتا ہے، تو سسٹم نہ صرف جواب دینے سے انکار کرتا ہے بلکہ اس سرگرمی کو “ہائی رسک” کے طور پر فلیگ بھی کر دیتا ہے۔
اسی فلیگ کی بنیاد پر امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) کے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سیل نے اس سرگرمی کا نوٹس لیا۔ چونکہ آئی پی ایڈریس پاکستان کا تھا، اس لیے ایف بی آئی نے یہ معلومات انٹرپول اور پاکستانی ادارے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ساتھ شیئر کیں۔
ایف آئی اے نے ایف بی آئی کی جانب سے ملنے والے مراسلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نوجوان سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ بظاہر وہ ذہنی دباؤ کا شکار لگتا ہے اور اس نے یہ سوالات تجسس یا غصے میں آ کر پوچھے، تاہم اس کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کو فرانزک کے لیے قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
ماہرین کی وارننگ
آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام یہ سمجھتے ہیں کہ اے آئی سے جو مرضی پوچھ لو، کوئی نہیں دیکھ رہا، جو کہ بالکل غلط ہے۔ اے آئی کمپنیاں گوگل اور میٹا سے بھی زیادہ سخت ہیں۔
اگر آپ قتل، اغوا یا خودکشی سے متعلق کچھ بھی پوچھیں گے تو آپ کا اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے اور آپ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ریڈار پر بھی آ سکتے ہیں۔
پاکستان میں الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) کے تحت ایسے سوالات پوچھنا بھی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے اگر اس کے پیچھے نیت کسی کو نقصان پہنچانے کی ہو۔


