موبائل ایپس کی آخری رسومات ادا : اب سارے کام ہوں گے اے آئی ایجنٹس سے

سان فرانسسکو: موبائل ایپس کے متبادل کے طور پر مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس تیار کرنے والے اسٹارٹ اپ فوٹون نے 45 لاکھ ڈالر کی سیڈ فنڈنگ حاصل کرلی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مستقبل میں صارفین نئی موبائل ایپس ڈاؤن لوڈ کرنے کے بجائے پہلے سے استعمال ہونے والی میسجنگ سروسز کے ذریعے اے آئی ایجنٹس سے کام لینا پسند کریں گے۔

فوٹون نے اس تصور کو اجاگر کرنے کے لیے گزشتہ ماہ سان فرانسسکو کے ایک چرچ میں باقاعدہ ایپ فنرل یعنی موبائل ایپس کی علامتی تدفین بھی منعقد کی، جس میں تقاریر اور پینلز کے ساتھ ایپ آئیکنز کیلئے ایک حقیقی تابوت بھی رکھا گیا تھا۔

فوٹون کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈینیئل تیان کے مطابق ایپس سے ایجنٹس کی جانب منتقلی فوری طور پر نہیں ہوگی، تاہم ان کے خیال میں طویل مدت میں یہ تبدیلی ناگزیر ہوسکتی ہے۔

میسجنگ ایپس کے ذریعے اے آئی ایجنٹس

فوٹون کا بنیادی تصور یہ ہے کہ صارفین کو ہر نئی سروس کیلئے الگ ایپ انسٹال کرنے کے بجائے ان پلیٹ فارمز کے اندر ہی اے آئی ایجنٹ دستیاب ہو جہاں وہ پہلے سے موجود ہیں۔

کمپنی ڈویلپرز کو ایسی ٹیکنالوجی فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے اے آئی ایجنٹس آئی میسیجز ، واٹس ایپ، ٹیلی گرام ، ایس ایم ایس، آر سی ایس، ای میل اور وائس سمیت مختلف ذرائع سے صارفین کے ساتھ رابطہ کرسکتے ہیں۔

فوٹون کا پلیٹ فارم ایک یونیفائیڈ اے پی آئی ، مختلف کمیونیکیشن چینلز کیلئے فریم ورک، کمانڈ لائن انٹرفیس اور سسٹم کی نگرانی کیلئے ٹولز فراہم کرتا ہے، جنہیں ملا کر ڈویلپرز میسجنگ پر مبنی اے آئی ایجنٹس تیار اور چلا سکتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق فوٹون کے پلیٹ فارم پر اب تک 40 ہزار سے زیادہ ڈویلپرز سائن اپ کرچکے ہیں۔ فوٹون کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران اس کی آمدنی میں 10 گنا اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ایک ماہ میں اس کے ذریعے بھیجے جانے والے پیغامات کی تعداد پانچ گنا بڑھی ہے۔

کمپنی نے اپنی آمدنی کی مجموعی رقم ظاہر نہیں کی، تاہم اس کے مطابق صارفین کے پلیٹ فارم چھوڑنے کی شرح 3 فیصد سے کم ہے۔

فوٹون کے مطابق اس کا اوپن سورس ورژن اب بھی اس کے مجموعی استعمال کا تقریباً 98 فیصد ہے۔ کمپنی نے رواں سال اپریل میں مینیجڈ یا ہوسٹڈ ورژن متعارف کرایا، جسے سبسکرپشن کے ذریعے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ہوسٹڈ ورژن میں کمپنی کے مطابق 99.95 فیصد اپ ٹائم کے ساتھ ایس او سی 2 ٹائپ 2 اور ہیپا کمپلائنس بھی شامل ہے، جس سے صحت کے شعبے میں اے آئی ایجنٹس کے استعمال کے امکانات بڑھتے ہیں۔

مختلف شعبوں میں استعمال

فوٹون کے صارفین میں انشورنس، فنانس، بینکنگ، ڈیٹنگ، سوشل نیٹ ورکنگ اور اے آئی سافٹ ویئر سے وابستہ کمپنیاں شامل ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی کو مختلف اے آئی اور سافٹ ویئر انفراسٹرکچر پلیٹ فارمز کے ساتھ بھی مربوط کیا گیا ہے۔

انسان سے انسان نہیں، ایجنٹ سے ایجنٹ رابطہ

فوٹون کے بانی مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو صرف انسان اور اے آئی کے درمیان رابطے تک محدود نہیں دیکھتے۔ ڈینیئل تیان کے مطابق اگلا مرحلہ ایسا ہوسکتا ہے جہاں ایک اے آئی ایجنٹ ضرورت کے مطابق دوسرے مخصوص ایجنٹس سے رابطہ کرے۔

مثلاً کوئی صارف اپنے اے آئی اسسٹنٹ سے سفر کی منصوبہ بندی کرے تو وہ اس کام کیلئے خود کسی ایئرلائن یا ہوٹل کی ایپ کھولنے کے بجائے دوسرے مخصوص ایجنٹس سے رابطہ کرکے پرواز، ہوٹل یا دیگر خدمات کا انتظام کراسکتا ہے۔

اس طرح فوٹون کا تصور ایجنٹ کا ایجنٹ سے رابطہ ماڈل کی جانب اشارہ کرتا ہے، جس میں صارف مختلف ایپس استعمال کرنے کے بجائے ایک اے آئی ایجنٹ کے ذریعے متعدد ڈیجیٹل خدمات تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔