پاکستان کے اسٹار بیٹر بابر اعظم پہلی مرتبہ متحدہ عرب امارات کی انٹرنیشنل ٹی20 لیگ (آئی ایل ٹی 20) میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔ دفاعی چیمپئن ڈیزرٹ وائپرز نے 2026 کے سیزن کے لیے بابر اعظم کو ان کے بیس پرائس 80 ہزار امریکی ڈالر میں حاصل کرلیا۔
وائپرز نے بابر کے ساتھ پاکستان کے مزید تین اہم کھلاڑیوں فخر زمان، شاداب خان اور نسیم شاہ کو بھی 80،80 ہزار ڈالر میں اپنی ٹیم کا حصہ بنا لیا۔ یوں فرنچائز نے چار پاکستانی کرکٹرز پر مجموعی طور پر 3 لاکھ 20 ہزار امریکی ڈالر خرچ کیے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلسل دوسری مرتبہ ڈیزرٹ وائپرز نے نیلامی میں پاکستانی کھلاڑیوں پر مشتمل مضبوط کور تشکیل دیا۔ اس مرتبہ بھی دیگر پانچ فرنچائزز کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے کوئی مسابقتی بولی سامنے نہیں آئی۔ ابو ظہبی نائٹ رائیڈرز نے البتہ ایک تیز رفتار مرحلے میں پاکستانی کھلاڑی عثمان طارق کو 80 ہزار ڈالر میں حاصل کیا۔
فاروقی سب سے مہنگے کھلاڑی
نیلامی میں افغانستان کے بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر فضل الحق فاروقی سب سے مہنگے کھلاڑی ثابت ہوئے۔ ممبئی انڈینز ایمریٹس نے انہیں 3 لاکھ 80 ہزار ڈالر میں حاصل کیا۔
فضل الحق فاروقی نے آئی ایل ٹی 20 کی نیلامی میں سب سے مہنگے کھلاڑی کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے وکٹ کیپر بیٹر آندرے فلیچر کے پاس تھا، جنہیں 2025 میں ایم آئی ایمریٹس نے 2 لاکھ 60 ہزار ڈالر میں خریدا تھا۔ فلیچر اس مرتبہ 40 ہزار ڈالر میں ابو ظہبی نائٹ رائیڈرز کا حصہ بنے۔
فاروقی آئی ایل ٹی 20 کی تاریخ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر بھی ہیں۔ انہوں نے 40 اننگز میں 64 وکٹیں حاصل کی ہیں، جبکہ ان کا اکانومی ریٹ 7.76 ہے۔
انگلینڈ کے آل راؤنڈر لیام لیونگ اسٹون کو گلف جائنٹس نے 3 لاکھ 50 ہزار ڈالر میں حاصل کیا۔ وہ جائنٹس کے نئے کوچ سائمن ہیلمٹ کے ساتھ دوبارہ کام کریں گے، جن کے ساتھ لیونگ اسٹون پہلے بھی سن رائزرز حیدرآباد میں کام کر چکے ہیں۔
افغانستان کے وکٹ کیپر بیٹر رحمان اللہ گرباز بھی 3 لاکھ ڈالر کی حد عبور کرنے والے کھلاڑیوں میں شامل رہے۔ ابو ظہبی نائٹ رائیڈرز نے انہیں 3 لاکھ 10 ہزار ڈالر میں حاصل کیا، تاہم گلف جائنٹس نے رائٹ ٹو میچ اختیار استعمال کرتے ہوئے گرباز کو دوبارہ اپنی ٹیم میں شامل کرلیا۔
افغانستان کے کھلاڑیوں کی مجموعی طور پر خاصی مانگ رہی اور نیلامی میں 25 افغان کھلاڑی مختلف فرنچائزز کا حصہ بنے۔ نئے اسکواڈ قوانین کے تحت ہر فرنچائز کے لیے کم از کم چار افغان کھلاڑی رکھنا ضروری ہے۔
یو اے ای کرکٹرز کی دستیابی
آئی ایل ٹی 20 کے دوران متحدہ عرب امارات کے قومی کھلاڑیوں کی دستیابی بھی ایک اہم مسئلہ بن سکتی ہے۔ لیگ 21 نومبر سے 20 دسمبر تک کھیلی جائے گی، جبکہ 2027 ورلڈ کپ کوالیفائر پلے آف یکم سے 22 دسمبر تک شیڈول ہیں۔
اسی وجہ سے یو اے ای کے بعض اہم کھلاڑیوں کی آئی ایل ٹی 20 کے پورے سیزن میں دستیابی غیر یقینی ہے۔ امارات کرکٹ بورڈ نے مبینہ طور پر آئی سی سی سے کوالیفائر پلے آف کو جنوری میں منتقل کرنے کے امکان پر بات کی، تاہم عالمی کرکٹ کیلنڈر میں گنجائش نہ ہونے کے باعث شیڈول تبدیل نہیں ہوسکا۔
یو اے ای کے سابق کپتان محمد وسیم کو ایم آئی ایمریٹس نے رائٹ ٹو میچ کے ذریعے 2 لاکھ 10 ہزار ڈالر میں دوبارہ حاصل کیا، جبکہ وریتیا اروند کو ڈیزرٹ وائپرز نے 70 ہزار ڈالر میں خریدا۔
ڈیزرٹ وائپرز نے انگلینڈ کے جارح مزاج بیٹر اینیورین ڈونلڈ کو 40 ہزار ڈالر میں خریدا۔ ان کا ٹی20 اسٹرائیک ریٹ 171 سے زائد ہے۔
ایم آئی ایمریٹس نے انگلینڈ کے آل راؤنڈر جیمز کولز کو ایک لاکھ ڈالر میں حاصل کیا۔ کولز نے حالیہ عرصے میں جنوبی افریقا کی ایس اے20 اور انگلینڈ کی دی ہنڈریڈ میں عمدہ کارکردگی کے بعد آئی ایل ٹی 20 کا رخ کیا ہے۔
ابو ظہبی نائٹ رائیڈرز نے امریکا سے تعلق رکھنے والے آل راؤنڈر امشی ڈی سلوا کو ایک لاکھ ڈالر میں حاصل کیا۔ وہ 2026 کی میجر لیگ کرکٹ میں ٹیکساس سپر کنگز کی جانب سے نمایاں ہوئے تھے اور اب ڈوین براوو کی کوچنگ میں آئی ایل ٹی 20 میں کھیلیں گے۔
پاکستانی کرکٹ کے نکتہ نظر سے ڈیزرٹ وائپرز کی نیلامی خاصی اہم رہی۔ بابر اعظم، فخر زمان، شاداب خان اور نسیم شاہ ایک ہی فرنچائز کی نمائندگی کریں گے۔
وائپرز کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں پر مجموعی 3 لاکھ 20 ہزار ڈالر خرچ کیے گئے، جبکہ باقی فرنچائزز نے پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے بڑی سطح پر بولی نہیں لگائی۔
یوں آئی ایل ٹی 20 کے 2026 سیزن میں بابر اعظم کی پہلی شرکت کے ساتھ شائقین کو ایک ہی ٹیم میں بابر اعظم اور فخر زمان کی بیٹنگ، شاداب خان کی آل راؤنڈ صلاحیت اور نسیم شاہ کی تیز گیند بازی دیکھنے کا موقع ملے گا۔


