بے لگام اے آئی : ماہرین کا مصنوعی ذہانت پر جوہری سیکیورٹی طرز کے اقدامات کا مطالبہ

مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی تیزی سے بڑھتی صلاحیتوں نے جہاں ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئے امکانات پیدا کیے ہیں، وہیں اس کے ممکنہ خطرات پر بھی تشویش بڑھنے لگی ہے۔

اوپن اے آئی کی سیفٹی ٹیم سے وابستہ رہنے والے سابق ملازم ڈیوڈ رابنسن نے اے آئی کمپنیوں کے حفاظتی اقدامات پر سوالات اٹھاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طاقتور ماڈلز میں معمولی غلطی کے نتائج بھی مستقبل میں انتہائی سنگین ہوسکتے ہیں۔

ڈیوڈ رابنسن کے مطابق اے آئی کی ترقی میں ٹرائل اینڈ ایرر کا طریقہ اختیار کیا گیا، تاہم جیسے جیسے ماڈلز زیادہ طاقتور اور خودمختار ہوتے جارہے ہیں، ان کی جانچ اور حفاظتی نظام بھی زیادہ سخت ہونا ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اے آئی سسٹمز کے لیے متعدد سطحوں پر حفاظتی انتظامات، اضافی بیک اپ سسٹمز اور جامع ٹیسٹنگ ناگزیر ہے، تاکہ انسانی غلطی کسی بڑے حادثے کا سبب نہ بن سکے۔

دوسری جانب سافٹ بینک کے چیف ایگزیکٹو ماسایوشی سون نے بھی طاقتور اے آئی کے ممکنہ خطرات پر عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ان کے مطابق اگر انتہائی طاقتور اے آئی ماڈلز غلط ہاتھوں میں چلے گئے تو ان کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں، اس لیے ممالک کو باہمی اعتماد کے ساتھ مل کر اے آئی کو محفوظ انداز میں آگے بڑھانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

اے آئی اب ویب سائٹس براؤز کرنے اور کوڈ لکھنے سے آگے بڑھ کر حقیقی دنیا میں روبوٹس اور دیگر مشینوں کو کنٹرول کرنے کی سمت بھی بڑھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کے نزدیک اے آئی کی بڑھتی طاقت کے ساتھ اس کی حفاظت اور نگرانی کا نظام بھی اسی رفتار سے مضبوط بنانا ضروری ہے۔