لکی مروت: پاکستان تحریکِ انصاف نے حکومت سے مذاکرات میں ڈیڈ لاک کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کردیا۔ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ آنے والے دنوں میں تحریک کا دائرہ مزید وسیع ہوگا اور صوابی پہنچنے تک ملک بھر میں اس کے اثرات نمایاں ہوچکے ہوں گے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مارچ کے شرکا آج ضلع خیبر کی جانب روانہ ہوں گے، جبکہ پیر کے روز خیبر میں لوگوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوابی پہنچنے پر عوام کا ایک بڑا اجتماع موجود ہوگا اور تحریک ملک کے ہر کونے تک پھیل چکی ہوگی۔
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ مارچ کے دوران ہر روز ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا جائے گا اور مختلف شہروں کے چوکوں کو سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائے گا۔
حکومت کے ساتھ مذاکرات پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ اسلام آباد جانے والی مذاکراتی کمیٹی کا مقصد سیاسی کشیدگی کم کرنا تھا، تاہم ان کے بقول ایک ایسا مائنڈ سیٹ موجود ہے جو بند کمروں میں فیصلے کرکے انہیں عوام پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں عمران خان کے وژن اور پالیسی کو ہی آگے بڑھایا جائے گا۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایسی کسی پالیسی کو قبول نہیں کرے گی جس سے پشتونوں کو نقصان پہنچے۔
وزیرِ اعلیٰ نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں عمران خان کی پالیسی ہی چلے گی۔ ان کے خطاب میں لانگ مارچ کو وسعت دینے اور صوبے میں پارٹی کے سیاسی مؤقف پر قائم رہنے کا پیغام نمایاں رہا۔


