لندن: برطانوی پولیس نے امریکی فوج کے زیرِ استعمال رائل ایئر فورس فیئر فورڈ (آر ایف ایف فیئر فورڈ) اڈے کے قریب مبینہ دہشت گرد منصوبے کی تحقیقات کے دوران لندن سے 22 سالہ برطانوی شہری کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق اسے دہشت گرد کارروائیوں کی تیاری کے شبہے میں گرفتار کیا گیا اور وہ تاحال زیرِ حراست ہے۔
گزشتہ ماہ 27 ستمبر کو فیئر فورڈ ایئربیس کے قریب متعدد افراد کو احتیاطی طور پر گھروں سے نکالا گیا۔ مسلح پولیس اہلکاروں اور فوجی بم ڈسپوزل ماہرین نے علاقے میں کارروائی کی۔
پولیس نے بتایا کہ پانچ مشتبہ افراد سے منسلک تین وینز میں ایک آتش گیر مادہ، یعنی پٹرول/گیسولین، ملا تھا۔ تاہم حکام کے مطابق وہاں سے کوئی دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔
برطانوی حکام کی جانب سے ایران کے ممکنہ کردار کے حوالے سے اشارے دیے گئے ہیں، جبکہ ایران نے کسی بھی مبینہ منصوبے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
اس کیس میں اس سے قبل 20 کی دہائی کے چھ افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ ان میں ایک برطانوی-ایرانی دوہری شہریت رکھنے والا شخص بھی شامل ہے، جسے یکم اکتوبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق یہ تمام افراد اس وقت سخت شرائط کے تحت ضمانت پر ہیں اور تحقیقات میں شامل ہیں۔
ان افراد کو گرفتاری کے ایک دن بعد ضمانت پر رہا کیے جانے پر امریکی صدر ٹرمپ نے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ایسی صورت میں انہیں رہا نہ کرتے۔
انسدادِ دہشت گردی پولیسنگ کے مطابق لندن کے علاقے ویسٹ منسٹر سے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اسی دوران یک مکان کی تلاشی بھی لی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاملہ ابھی زیرِ تفتیش ہے اور ماہر ٹیمیں فیئر فورڈ کے قریب پیش آنے والے واقعات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں۔
فیئر فورڈ کیس میں تازہ گرفتاری سے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہوتا دکھائی دے رہا ہے، تاہم پولیس کی جانب سے کسی حتمی سازش، حملے یا بیرونی ریاست کے ملوث ہونے کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔


