پہلے دھرنے اور لانگ مارچ ختم کرو پھر بات چیت: وزیراعظم کی پی ٹی آئی کو پیشکش

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو لانگ مارچ اور دھرنے ختم کرنے کی صورت میں مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سیاسی اختلافات کے حل کے لیے بات چیت پر آمادہ ہے۔

اسلام آباد میں کشمیر چوک انڈرپاس کے سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے پی ٹی آئی سے کہا کہ وہ لانگ مارچ اور دھرنے ختم کرے، جس کے بعد حکومت اس کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ وہ اب بھی پی ٹی آئی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ احتجاجی سرگرمیوں کا راستہ ترک کرے۔ ان کے بقول، لانگ مارچ اور دھرنے ختم کیے جائیں تو حکومت مذاکرات کے لیے بیٹھ سکتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے پہلے بھی پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا تاکہ اسے دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست ترک کرنے پر قائل کیا جا سکے، تاہم ان کے مطابق یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔

شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ مذاکراتی عمل آخری مراحل میں پہنچ چکا تھا اور بعض معاملات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، تاہم بعد میں ان امور میں دوبارہ تبدیلیوں کا مطالبہ کیا گیا۔

وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کا مقصد مذاکراتی عمل کو کامیاب نہ ہونے دینا تھا۔ یہ وزیراعظم کا سیاسی مؤقف ہے، جبکہ اس حوالے سے پی ٹی آئی کا مؤقف الگ ہو سکتا ہے۔
’
شہباز شریف نے دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کے معاشی اثرات پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاجی سیاست کا سب سے پہلا اور بڑا اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے اور حکومت کسی صورت ایسے اقدامات کو ملک کے معاشی مفادات کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا اور عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، جسے ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
’
شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے گزشتہ ڈھائی برس کے دوران اجتماعی کوششوں اور ٹیم ورک کے ذریعے ملکی معیشت کو دوبارہ مستحکم کیا ہے۔ اب ملک میں معاشی ترقی اور گروتھ پر توجہ دینے کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس مرحلے پر کوئی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں ترقی کا عمل متاثر ہو سکتا ہے اور عوام کی جان و مال کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔