فرانس میں اسکولوں کی خستہ حالی، ناکافی سہولتوں اور تعلیم کے لیے مزید فنڈز کے مطالبے پر طلبہ کا ملک گیر احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق فرانس کے مختلف شہروں میں ہر روز ہزاروں طلبہ اور دیگر مظاہرین تعلیمی نظام کی حالت بہتری کے لئے احتجاج کررہے ہیں ۔ کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی رپورٹ ہوتی ہیں۔
فرانسیسی وزیراعظم سباستین لکورنو نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کے حق کا احترام کیا جاتا ہے لیکن تشدد کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ اسکول کو آگ لگانے سے اس کی حالت بہتر نہیں ہوگی اور استاد پر حملہ کرنے سے اساتذہ کی کمی دور نہیں کی جا سکتی۔
وزیراعظم نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ حکومت نے مظاہرین کے خلاف پولیس کو کریک ڈاؤن کا حکم دیا ہے۔ ان کے مطابق پرامن احتجاج جمہوری حق ہے، تاہم تشدد اور توڑ پھوڑ کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔
اسکولوں کی حالت پر طلبہ ناراض
احتجاج کے پیچھے طلبہ کی بنیادی شکایات میں اسکولوں کے لیے ناکافی وسائل، عمارتوں کی خراب حالت، اساتذہ کی کمی اور تعلیمی سہولتوں کا فقدان شامل ہے۔
پیرس کے نواحی علاقے سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ طالب علم تھامس نے صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات کلاس رومز میں طلبہ کے لیے میزیں اور کرسیاں تک پوری نہیں ہوتیں۔
اس کے مطابق کینٹین میں دیر سے پہنچنے والے طلبہ کو بعض دنوں میں صرف روٹی اور پانی ملتا ہے، جبکہ واش رومز میں دروازے، ٹوائلٹ پیپر اور صابن تک موجود نہیں۔
اساتذہ بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کر رہے ہیں۔ تولوز کے ایک تاریخ کے استاد کے مطابق طلبہ اور اساتذہ دونوں کو بہتر عمارتیں، مناسب کام کے حالات اور ہر کلاس کے لیے استاد درکار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ رواں موسم گرما کی شدید گرمی نے بھی اسکولوں کی کمزور سہولتوں کو نمایاں کردیا ہے، کیونکہ بہت سے اسکول بلند درجہ حرارت سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں۔
فرانسیسی وزارتِ تعلیم کے مطابق ملک کے 3700 ہائی اسکولوں میں سے 891 میں کلاسز مکمل یا جزوی طور پر معطل ہیں۔
دوسری جانب طلبہ کی یونین ’یونین سیندیکال لِسے‘ نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 1800 اسکول یا تو بند رہے یا ان میں طلبہ نے ناکہ بندی کی، جسے یونین نے حالیہ احتجاجی لہر کا ’تاریک ترین دن‘ قرار دیا۔
ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے، جن میں نانت، لیون، رین اور اسٹراسبرگ بھی شامل ہیں۔ رین میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ بعض دیگر مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق پیرس کے علاوہ ملک بھر میں تقریباً 86 ہزار افراد احتجاج میں شریک ہوئے۔ تاہم مزدور یونین سی جی ٹی نے یہ تعداد کہیں زیادہ، تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار بتائی۔
احتجاج کے دوران پولیس کے طاقت کے استعمال نے بھی بحث کو جنم دیا ہے۔ فرانس کے سرکاری آزاد قومی انسانی حقوق ادارے سی این سی ڈی ایچ نے مظاہروں سے نمٹنے کے دوران غیر متناسب طاقت کے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کے ساتھ مذاکرات کرے اور ان کے بنیادی حقوق یقینی بنائے۔
ادارے نے خبردار کیا کہ پورے طلبہ احتجاج کو ان چند پرتشدد واقعات کے ساتھ جوڑنا درست نہیں جو مظاہروں کے دوران پیش آ سکتے ہیں، کیونکہ اس سے مزید سخت کریک ڈاؤن کا جواز پیدا ہوسکتا ہے۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے تاہم سکیورٹی فورسز پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مظاہرے پرامن رہیں تو پولیس کو فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، لیکن توڑ پھوڑ کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل مضبوطی سے کارروائی کریں گے۔
حکومت اور طلبہ کے درمیان بڑھتا فاصلہ
حکومت نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے جبکہ وزیر تعلیم ایڈوار ژیفغے نے کہا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح طلبہ کا تحفظ ہے اور ان کے مطالبات پر کام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے پیر کو لینس شہر میں ایک 15 سالہ لڑکے کا دستی بم سے ہاتھ ضائع ہونے کے واقعے کو ’المیہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کا قانونی اور پرامن احتجاج کرنا بالکل جائز ہے، تاہم انہوں نے اسکولوں کی ناکہ بندی کی حوصلہ افزائی نہ کرنے پر زور دیا۔
دوسری طرف پیرس کے میئر ایمانوئل گریگواغ نے کشیدگی کم کرنے کے لیے دارالحکومت کے ٹاؤن ہالز طلبہ کے اجتماعات کے لیے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو منظم ہونے، بحث کرنے اور جمہوری طریقے سے اپنے مطالبات سامنے رکھنے کے لیے جگہ فراہم کی جانی چاہیے۔
احتجاج نے ایسے وقت میں حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے جب صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت کو تعلیمی نظام، سرکاری خدمات اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق بڑھتی ہوئی بے چینی کا سامنا ہے۔ طلبہ کا موجودہ احتجاج اب محض اسکولوں کی عمارتوں یا سہولتوں کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ تعلیم کے لیے سرکاری ترجیحات، نوجوانوں کے حقوق اور احتجاج سے نمٹنے کے حکومتی طریقۂ کار پر وسیع تر بحث میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔


