خلع اور تنسیخِ نکاح ایک نہیں، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ازدواجی تنازعات سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تنسیخِ نکاح اور خلع دو الگ قانونی راستے ہیں اور دونوں کے مالی و قانونی اثرات بھی یکساں نہیں ۔ عدالت کسی خاتون کی تنسیخ نکاح کی درخواست کو اس کی مرضی کے برخلاف خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دو خواتین کی اپیلوں کا تحریری فیصلہ جاری کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خلع کا انتخاب خاتون کا اپنا حق ہے اور اسے اس کی رضامندی کے بغیر نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر خاتون نے خلع طلب نہیں کی اور حالات تنسیخِ نکاح کا جواز فراہم کرتے ہوں تو عدالت خود سے مقدمے کو خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ صرف اختلافِ رائے، معمولی گھریلو جھگڑوں یا کچھ عرصے کی علیحدگی کو شقاق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ میاں بیوی کے درمیان اختلاف شدید، حقیقی اور مسلسل نوعیت کا ہے اور صلح کی بامعنی کوششیں بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ اگر نکاح ختم کیا جاتا ہے تو اسے خلع قرار دے کر خاتون کو حق مہر واپس کرنے یا اس سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ کسی شوہر پر ظلم یا زیادتی کا الزام ثابت کیے بغیر اسے ظالم قرار دینا بھی درست نہیں۔ خاندانی مقدمات میں عدالتوں کو دونوں جانب کے قانونی حقوق کے ساتھ فریقین کی عزت اور وقار کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔