دہشت گردی کے خلاف پی ٹی آئی کے سوا پوری قوم میں اتفاق رائے ہے: رانا ثناء اللہ

مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت مذاکرات کے لیے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہے، تمام سیاسی و قومی مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔ دہشت گردی کے خلاف پی ٹی آئی کے سوا پوری قوم میں اتفاق رائے موجود ہے۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ذاتی سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسائل کے حل کی طرف آئے، ریاست کو یرغمال بنانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی اور ریاست کو دباؤ میں لا کر کسی مطالبے کو منوانا ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے گزشتہ روز بھی اپوزیشن اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی دعوت دی ہے۔ سیاسی عدم برداشت، نفرت اور گالم گلوچ کا کلچر سیاست میں متعارف کرایا گیا۔ سیاسی رواداری پاکستانی سیاست کا طرۂ امتیاز تھی، جسے گالم گلوچ کے کلچر میں تبدیل کر دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کا ایک ایجنڈا سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا حربہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ ان کے مطابق مذاکرات میں پیدا ہونے والے ڈیڈلاک کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سیاسی عدم برداشت، نفرت اور گالم گلوچ کا کلچر سیاست میں متعارف کرایا گیا۔ سیاسی رواداری پاکستانی سیاست کا طرۂ امتیاز تھی، جسے گالم گلوچ کے کلچر میں تبدیل کر دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کا ایک ایجنڈا سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا رہا ہے اور یہ سلسلہ 2014 کے دھرنے سے شروع ہوا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ 2014 میں اسلام آباد پر چڑھائی کی گئی اور 126 روز تک دھرنا دیا گیا۔ اب بھی اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس مقصد کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کے وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔، دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری رہیں گے۔

دہشت گردی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ کوئی نیا آپریشن نہیں ہو رہا، دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سال میں شہداء کی ایک طویل فہرست ہے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں مشاورت شامل نہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب، قطر، چین اور ترکیے نے افغان رجیم کو پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دینے کے لیے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ کسی نئے آپریشن کے نتیجے میں آئی ڈی پیز بننے کا تاثر غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کی کہ دہشت گردی کے خلاف پی ٹی آئی کے سوا پوری قوم میں اتفاق رائے موجود ہے۔ سہیل آفریدی کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے جا رہی ہے، تاہم کوئی آئی ڈی پیز نہیں بن رہے۔ ان کے بقول افواج پاکستان دلیری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پی ٹی آئی کے سوا پوری قوم میں اتفاق رائے موجود ہے۔ سہیل آفریدی کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ انہوں نے پہلے دن ہی بتا دیا تھا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کے عشق میں مرنا چاہتے ہیں۔