واشنگٹن: امریکا نے عالمی عدالت انصاف (آئی سی سی) پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس کے کام کو محدود کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نوبیل امن انعام 2026 جنوبی افریقا کی سابق جج ناوی پِلے کو دینے کا اعلان کیا گیا، جو عالمی فوجداری عدالت کے خلاف بڑھتے سیاسی دباؤ پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کو کہا کہ واشنگٹن عالمی فوجداری عدالت کے ساتھ لین دین پر پابندی عائد کرے گا۔ انہوں نے عدالت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یا تو آئی سی سی اپنے اقدامات سے باز آئے، یا امریکا اسے ختم کرنے کے لیے کارروائی کرے گا۔
تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے پابندیوں کے فوری اثرات محدود رکھنے کے لیے بعض استثنا بھی متعارف کرائے ہیں، جن کے تحت عدالت کو تقریباً چھ ماہ کی مہلت مل سکتی ہے۔ محکمہ خارجہ کے مطابق اس دوران عدالت کے رکن ممالک کو امریکی تحفظات دور کرنے کے لیے ٹھوس پیش رفت دکھانے کا موقع دیا جائے گا۔ اس مہلت میں ہونے والی تبدیلی کا انحصار ان کوششوں کی کامیابی یا ناکامی پر ہوگا۔
عالمی سطح پر امریکی فیصلے پر ردعمل
عالمی فوجداری عدالت نے امریکی پابندیوں کو بین الاقوامی قانون پر حملہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس اقدام کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔ کینیڈا، فرانس، جرمنی، جاپان اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک نے مشترکہ بیان میں امریکی اعلان سے شدید اختلاف کیا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی فوجداری انصاف کی اجتماعی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جس میں عالمی فوجداری عدالت بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
یورپی یونین نے بھی پابندیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کو اپنا کام جاری رکھنے کے قابل بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کو تیار ہے۔ یورپی کمیشن نے امید ظاہر کی کہ چھ ماہ کی مہلت سے فریقین کے درمیان بات چیت کی گنجائش نکل سکتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکی اقدام کی مخالفت کریں۔ تنظیم کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد عدالت کو الگ تھلگ کرنا اور بالآخر اسے ختم کرنا ہے۔
اس کے برعکس اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ نیتن یاہو کے خلاف غزہ میں مبینہ جرائم کے الزامات پر عالمی فوجداری عدالت کا گرفتاری وارنٹ موجود ہے۔ ان کے دفتر نے عدالت کو سیاسی ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قومی خودمختاری اور جمہوریتوں کے لیے خطرہ ہے۔
امریکی شہریوں کے خلاف کارروائی پر واشنگٹن کے تحفظات
مارکو روبیو نے کہا کہ پابندیوں کا مقصد امریکی فوجی اہلکاروں اور منتخب عہدیداروں کو ایسی عدالت کی کارروائیوں سے تحفظ دینا ہے جس کا امریکا رکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی شہریوں کے خلاف عالمی فوجداری عدالت کی کارروائی کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق واشنگٹن ایک سال سے زائد عرصے سے عدالت اور اس کے رکن ممالک کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرتا آ رہا ہے، لیکن ان کے بقول انہیں دور کرنے کے لیے کوئی بامعنی اقدامات نہیں کیے گئے۔
روبیو نے امریکا کے اتحادی ممالک، جو عالمی فوجداری عدالت کے رکن بھی ہیں، پر زور دیا کہ وہ عدالت کے اقدامات کو محدود کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا عدالت کو مرحلہ وار کمزور کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل بھی عدالت سے وابستہ 17 افراد پر پابندیاں عائد کر چکی ہے، جن میں پراسیکیوٹر اور متعدد جج شامل ہیں۔ یہ اقدامات امریکا اور اسرائیل سے متعلق عدالت کی تحقیقات کے تناظر میں کیے گئے تھے۔ گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے آئی سی سی کے رکن ممالک سے بھی مطالبہ کیا تھا کہ وہ عدالت سے علیحدگی اختیار کریں۔
نوبیل امن انعام کے اعلان کے روز نیا تنازع
امریکی پابندیوں کا اعلان اسی روز سامنے آیا جب ناروے کی نوبیل کمیٹی نے جنوبی افریقاسے تعلق رکھنے والی 85 سالہ قانون دان ناوی پِلے کو 2026 کا نوبیل امن انعام دینے کا اعلان کیا۔ پِلے روانڈا میں نسل کشی سے متعلق بین الاقوامی ٹریبونل کی سربراہی کر چکی ہیں، عالمی فوجداری عدالت میں خدمات انجام دے چکی ہیں اور بعد میں اقوام متحدہ کے ایک کمیشن کی قیادت بھی کی، جس نے غزہ میں اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات عائد کیے تھے۔
مارکو روبیو کے بیان میں ناوی پِلے یا نوبیل امن انعام کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا۔ تاہم دونوں اعلانات کے ایک ہی روز سامنے آنے سے عالمی سطح پر بین الاقوامی انصاف، قومی خودمختاری اور عدالتوں پر سیاسی دباؤ سے متعلق بحث مزید نمایاں ہو گئی ہے۔


