خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی: آرٹیکل 245 کے تحت فوج تعینات

اسلام آباد: خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے چند گھنٹوں بعد وفاقی حکومت نے صوبے میں پاک فوج کوباضابطہ تعینات کردیاگیاہے۔

اتوار کی صبح وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں کابینہ کا ہنگامی اجلاس ہوا۔

سرکاری میڈیا کےمطابق وفاقی کابینہ کو اجلاس کےدوران امن وامان کی صورت حال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

کابینہ نے وزیرِ اعظم کو تجویز دی کہ وہ صدر مملکت کو مشورہ دیں کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر صدر مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کریں۔

ایمرجنسی کےنفاذ کے متعلق کابینہ کی تجویز پر وزیرِ اعظم ہاؤس سے ایڈوائس ایوان صدر بھجوائی گئی۔

صدر مملکت آصف زرداری نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت سمری منظورکرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ ساتھ ہی 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

قائم کردہ 11 رکنی مشاورتی کونسل میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا ہے جو اپنے اپنے شعبوں کے ماہر ہیں اور جنھیں تکنیکی معاملات پر عبور حاصل ہے۔

خیبر پختونخوا کے داخلہ اُمور کے معاملات کفایت اللہ خان (سابق کمشنر اور آئی جی جیل خانہ جات) دیکھیں گے جبکہ فنانس یعنی معیشت کے معاملات طارق محمود پاشا (سابق چیئرمین ایف بی آر)، قانون کے عامر جاوید (سابق ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا) اور تعلیم سے متعلقہ معاملات ڈاکٹر سید عامر عبداللہ (سابق عبوری صوبائی وزیر) دیکھیں گے۔

اسی طرح صحت سے متعلق معاملات لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نگار جوہر خان (سابق سرجن جنرل پاکستان آرمی)، مائنز اینڈ منرلز ڈاکٹر سرفراز علی شاہ، انڈسٹریز اینڈ کامرس ڈاکٹر محمد ارشاد (سابق چیئرمین ایف بی آر)، کمیونیکیشن اینڈ ورکس آصف رفیق آفریدی (سابق عبوری صوبائی وزیر)، مذہبی اُمور طیب قریشی (جامعہ اشرفیہ)، توانائی عثمان سیف اللہ خان (سابق سینیٹر)، اطلاعات و نشریات ثمر ہارون بلور (سابق ایم پی اے) دیکھیں گے۔

دوسری جانب وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ حکم نامے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت خیبرپختونخوا میں فوج کے دستے اور وسائل تعینات کیے جائیں گے۔

یہ تعیناتی اسی مدت کے لیے ہوگی جس کے لیے 11 اکتوبر 2026 کو آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کا اعلان کیا گیا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پاک فوج کی تعیناتی کا مقصد شہریوں کی جان و مال، سرکاری تنصیبات اور قومی اثاثوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ فوج سول انتظامیہ کی معاونت کرے گی۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور ثمر ہارون بلور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ تمام حکومتوں کو مل کر لڑنی چاہیے، اسی مقصد کے تحت وفاقی حکومت خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہی اور مختلف معاملات پر پیشرفت جاری تھی۔

وزیر داخلہ کے مطابق تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے اعلان سے پہلے ہی اس کے بیشتر مطالبات پر پیشرفت ہو رہی تھی، جبکہ ملاقاتوں سمیت متعدد معاملات پر بھی کام جاری تھا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم کو آئینی طریقہ کار اختیار کرنے اور دستیاب آئینی آپشنز استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا۔