پوپ لیو چہاردہم کے پھیپھڑوں میں رسولی کی تشخیص

ویٹیکن سٹی: (اے ایف پی) رومن کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے اعلان کیا ہے کہ ان کے پھیپھڑوں میں موجود رسولی کو نکالنے کے لیے آئندہ چند روز میں آپریشن کیا جائے گا۔ ان کے مطابق طبی معائنے کے دوران رسولی کی نشاندہی ابتدائی مرحلے میں ہی ہوگئی تھی۔

پوپ لیو چہاردہم نے اتوار کو سینٹ پیٹرز اسکوائر میں ہفتہ وار خطاب کے دوران بتایا کہ حالیہ طبی معائنے میں ان کے پھیپھڑوں میں ایک چھوٹی رسولی سامنے آئی، جو ایک محدود حصے تک پھیلی ہوئی ہے اور ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہوئی ہے۔

پوپ کے مطابق ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ رسولی کو آپریشن کے ذریعے نکال دیا جائے، جس کے بعد انہوں نے طبی ماہرین کی ہدایت پر سرجری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ویٹیکن کے پریس آفس کے مطابق پوپ کا آپریشن آئندہ چند روز میں روم کے جیمیلی اسپتال میں متوقع ہے، جہاں سرجری کے بعد صحت یابی میں تقریباً ایک ہفتہ لگنے کا امکان ہے۔ یہ اسپتال ماضی میں بھی متعدد پوپ صاحبان کے علاج کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آپریشن اور صحت یابی کے باعث پوپ کے آئندہ شیڈول میں کوئی تبدیلی ہوگی یا نہیں۔ انہیں 6 سے 17 نومبر کے دوران یوراگوئے، ارجنٹینا اور پیرو کا دورہ کرنا ہے۔

اٹلی کی وزیراعظم کا پوپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار

اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی نے پوپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اتوار کے خطاب کے دوران ان کا پُرسکون انداز اطمینان کا باعث ہے۔ انہوں نے اس مشکل مرحلے میں پوپ کے ساتھ اپنی ذاتی اور اطالوی حکومت کی جانب سے یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔

پوپ لیو چہاردہم، جن کا اصل نام رابرٹ فرانسس پریوووسٹ ہے، گزشتہ سال 8 مئی کو دنیا بھر کے تقریباً ایک ارب 40 کروڑ کیتھولک مسیحیوں کے سربراہ منتخب ہوئے تھے۔ وہ پہلے امریکی پوپ ہیں۔ ان کے پیش رو پوپ فرانسس 21 اپریل 2025 کو 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

پوپ لیو چہاردہم نے اپنے دورِ قیادت میں عالمی تنازعات اور مصنوعی ذہانت سمیت اہم عالمی معاملات پر بھی اظہارِ خیال کیا ہے۔ فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد انہوں نے اس تنازع پر تنقید کی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی کو پوپ نے ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا تھا اور امریکی شہریوں پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے قانون سازوں سے امن کے لیے کام کرنے کا مطالبہ کریں۔ اس پر ٹرمپ نے پوپ کو خارجہ پالیسی کے معاملے میں کمزور قرار دیا، جس کے جواب میں پوپ لیو چہاردہم نے کہا تھا کہ ناانصافی اور تنازعات کے خلاف آواز اٹھانا ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔