ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ہوائی اڈے نشانے پر

ریاض : حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود سے دور رہنے کی نئی دھمکی جاری کردی ہے۔ یہ انتباہ سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے ایک روز بعد سامنے آیا، جس میں سعودی حکام کے مطابق 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوئے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے اتوار کو ایئرلائنز، مسافروں، فضائی عملے اور ہوائی اڈوں سے وابستہ کارکنوں کو سعودی ہوائی اڈوں اور فضائی حدود کے استعمال سے گریز کرنے کا کہا ہے۔ گروپ نے اپنے بیان میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ہوائی اڈوں کو اس انتباہ سے مستثنیٰ قرار دیا۔

ریاض کے ہوائی اڈے پر حملہ ایک ہفتے کے دوران تیسرا واقعہ بتایا گیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق تازہ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی شہری، دو بنگلہ دیشی اور امریکا، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کا ایک ایک شہری شامل ہے۔ حملے کے بعد کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کردی گئی ہیں، جبکہ پروازوں کی بحالی کے وقت سے متعلق فوری طور پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

سعودی اتحاد کا جوابی کارروائی کا اعلان

سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے حملے کے بعد حوثیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ سعودی عرب نے حالیہ ہفتوں میں یمن میں اپنی فوجی سرگرمیاں تیز کی ہیں اور حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں یمنی حکومت کی حمایت جاری رکھی ہے۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں مزید حملوں کی دھمکی دی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

پاکستان سمیت عالمی برادری کی مذمت

ریاض ایئرپورٹ حملے پر پاکستان، اقوام متحدہ اور متعدد ممالک نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے اور اس سے علاقائی امن و استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور ایسے حملے فوری طور پر بند ہونے چاہییں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائیوں میں شامل ہونے کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔ تاہم، امریکا کی جانب سے براہِ راست فوجی کارروائی میں شمولیت کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

یمن میں جاری لڑائی کے پھیلاؤ اور سعودی ہوائی اڈوں کو لاحق خطرات کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے شہریوں کے تحفظ اور کشیدگی میں کمی کے مطالبات بھی سامنے آرہے ہیں۔