دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کو گرانے کا معاملہ: آسٹریلوی عالم دین کا ردعمل

میلبرن : اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی مسافر پرواز میں کپتان پر مبینہ حملے کے معاملے میں آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں قائم ایک اسلامی کمیونٹی سینٹر کا نام سامنے آنے کے بعد مرکز کے سربراہ ابو حمزہ نے اپنے خلاف الزامات کو جھوٹا قرار دے دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے پراسیکیوٹرز نے دعویٰ کیا تھا کہ پرواز کے عمانی معاون پائلٹ نے آسٹریلیا میں تعلیم کے دوران انتہا پسندانہ مواد سے متاثر ہونا شروع کیا تھا، تاہم اسلامی مرکز اور ابو حمزہ پر کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کا الزام عائد نہیں کیا گیا۔

فرانسیسی نیوز ویب سائیت فرانس 24 کے مطابق آسٹریلیا مین سمیر موحتدی کے نام سے معروف ابو حمزہ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں اپنے خلاف ہونے والی تنقید اور الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں اچھے لوگوں کو بھی الزامات، بدسلوکی، قید اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ابو حمزہ نے ویڈیو میں کہا کہ بعض اوقات خاموش رہنا ہی بہتر ہوتا ہے، تاہم لوگ الزامات لگانے اور جھوٹے دعوے کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ انہوں نے اماراتی پراسیکیوٹرز کے دعووں پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا۔

پائلٹ کے آسٹریلیا میں انتہا پسندی سے متاثر ہونے کا دعویٰ

متحدہ عرب امارات کے پراسیکیوٹرز کے مطابق زیر حراست اومانی معاون پائلٹ آسٹریلیا کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران مبینہ طور پر انتہا پسندی کی طرف مائل ہوا۔ پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ اس نے انتہا پسندانہ لٹریچر پڑھنے اور دہشت گرد تنظیموں اور خودکش حملوں کی تعریف کرنے والا آن لائن مواد دیکھنے کے بعد شدت پسندانہ نظریات اپنائے۔

اماراتی حکام کے مطابق ملزم القاعدہ کے 11 ستمبر 2001 کے حملوں سے بھی متاثر تھا۔ پراسیکیوٹرز کی تفصیلات کے مطابق اس نے مبینہ حملہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے کے ارادے سے کیا۔

پراسیکیوٹرز نے دعویٰ کیا کہ آسٹریلیا میں تعلیم کے دوران معاون پائلٹ کی ملاقات مائی سینٹر نامی تنظیم سے وابستہ افراد سے ہوئی، جسے لبنانی نژاد شخص ابو حمزہ چلاتے ہیں۔

تاہم یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ حکام کی جانب سے اسلامی مرکز کا نام سامنے آنے کے باوجود مرکز یا ابو حمزہ کے خلاف کسی مجرمانہ فعل میں ملوث ہونے کا الزام عائد نہیں کیا گیا۔ معاون پائلٹ کے مبینہ انتہا پسندانہ رجحانات اور مرکز سے متعلق دعوے بھی حکام سے منسوب ہیں۔

دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں کیا ہوا؟

واقعہ 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آیا۔ حکام کے مطابق عمانی معاون پائلٹ پر الزام ہے کہ اس نے طیارے کے بھارتی کپتان سمت مچھر پر ہنگامی حالات میں استعمال ہونے والی کلہاڑی سے حملہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق کپتان نے مزاحمت کی اور مدد کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ واپسی کی پرواز کے لیے تعینات ایک اور پائلٹ بھی اس وقت طیارے میں موجود تھا۔ اس نے کاک پٹ کا دروازہ غیر معمولی انداز میں بار بار کھلتے اور بند ہوتے دیکھا۔

بعد ازاں اس پائلٹ نے ایک کیبن کریو رکن اور متعدد مسافروں کی مدد سے مداخلت کی، زخمی کپتان کو بچایا اور مبینہ حملہ آور کو قابو کر لیا۔

اس کے بعد واپسی کی پرواز کے کپتان اور معاون پائلٹ نے طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر اتارا۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بھی تحقیقات

واقعے کے بعد آسٹریلیا کی پولیس اور انٹیلی جنس اداروں نے ملزم کے ملک سے روابط کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ نیوزی لینڈ کی پولیس کے مطابق بھی ملزم نے ملک میں وقت گزارا تھا۔

نیوزی لینڈ کے قومی نشریاتی ادارے آر این زیڈ کی رپورٹ کے مطابق عمانی معاون پائلٹ چھ ماہ کے طالب علم ویزے پر نیوزی لینڈ میں رہا، جہاں اس نے اپنی پرواز کی تربیت کا کچھ حصہ مکمل کیا۔

تحقیقات میں اب یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ملزم کے مبینہ انتہا پسندانہ رجحانات کب اور کیسے پروان چڑھے، مختلف ممالک میں اس کے روابط کی نوعیت کیا تھی اور طیارے میں پیش آنے والے واقعے کے پس منظر میں کون سے عوامل کارفرما تھے۔ حکام کے الزامات اور تحقیقات کے نتائج سامنے آنے تک کسی فرد یا ادارے کی مجرمانہ ذمہ داری کو ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔