اٹلی میں کسان خاتون کا انوکھا تجربہ: چاول کے کھیتوں کو جنگل اور دلدلی علاقوں میں بدل دیا

کرووا: اٹلی میں ایک کسان خاتون نے زیادہ فصل حاصل کرنے کے روایتی تصور سے ہٹ کر حیاتیاتی تنوع اور قدرتی ماحول کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے اپنے چاول کے کھیتوں کے تقریباً ایک تہائی حصے کو دوبارہ جنگلات اور قدرتی دلدلی علاقوں میں تبدیل کر دیا ہے۔

اس منفرد تجربے کے نتیجے میں علاقے میں نایاب پرندوں، تتلیوں اور دیگر حشرات کی افزائش کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو رہا ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی اور شدید گرمی کے مقابلے میں صدیوں پرانی چاول کی اقسام بھی اہم ثابت ہو رہی ہیں۔

فرانس کے خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شمال مغربی اٹلی کے علاقے کرووا میں واقع خاندانی زرعی فارم کی 43 سالہ منتظم ایلس چیروتی نے 2012 میں فارم کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد قدرتی ماحول کی بحالی کا منصوبہ شروع کیا۔ یہ فارم 16ویں صدی سے قائم ہے، جب بینیڈکٹائن راہبوں نے دلدلی زمینوں کو چاول کی کاشت کے قابل بنایا تھا۔

چیروتی نے اپنے 110 ہیکٹر رقبے پر مشتمل فارم کے تقریباً ایک تہائی حصے کو قدرتی حالت میں بحال کیا ہے، جس میں 25 ہیکٹر زمین کو دلدلی علاقوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک 10 ہزار سے زیادہ مقامی درخت اور پودے لگائے جا چکے ہیں، جن میں بلوط، ایلڈر، ایش اور ہارن بیم شامل ہیں۔

ان کے مطابق درخت لگانے کے بعد تتلیوں، ڈریگن فلائیز اور دیگر جانداروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بحال کیے گئے دلدلی علاقوں میں نایاب نسلوں کو بھی رہائش مل رہی ہے، جبکہ بلیک ٹیلڈ گاڈ وٹ نامی مہاجر پرندے نے یہاں گھونسلہ بنایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اٹلی میں اس پرندے کی افزائش کا واحد ریکارڈ شدہ مقام ہے۔

چاول کی کم پیداوار، مگر معیار بہتر

ایلس چیروتی نے قدرتی ماحول کے تحفظ کے باوجود چاول کی کاشت ترک نہیں کی، بلکہ جدید اقسام کے ساتھ روایتی اور تاریخی اقسام کی کاشت کو ترجیح دی ہے۔ ان کے فارم پر سرخ اور سیاہ چاول کے علاوہ کارنارولی کلاسیکو اور آربوریو کلاسیکو جیسی قدیم اقسام بھی اگائی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ روایتی اقسام کی پیداوار جدید اقسام کے مقابلے میں کم ہو سکتی ہے، تاہم ان کا معیار بہتر ہے اور یہ شدید گرمی اور خشک سالی کو نسبتاً بہتر برداشت کرتی ہیں۔ چیروتی کے مطابق ان کے کارنارولی کلاسیکو چاول کی کاشت میں کیمیائی کھاد کا بالکل استعمال نہیں کیا گیا۔

زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے کے لیے وہ سبز کھاد اور دالوں والی فصلوں سے مدد لیتی ہیں، جبکہ چاول کی کٹائی کے درمیانی عرصے میں تقریباً 1200 بھیڑوں کو کھیتوں میں چرنے کے لیے لایا جاتا ہے۔ بھیڑوں کا نامیاتی فضلہ زمین میں قدرتی غذائی اجزا شامل کرتا ہے، جس سے مٹی کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

چیروتی کے چاول برطانیہ، دبئی اور امریکا سمیت مختلف منڈیوں میں فروخت ہوتے ہیں۔ تاہم وہ تسلیم کرتی ہیں کہ شدید گرمی نے ان کی پیداوار کو بھی متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق کھیتوں میں بروقت پانی بھرنے اور قدرتی ماحول کی بحالی سے خشک سالی کے اثرات کم کرنے میں مدد ملی ہے۔

اٹلی کی چاول کی صنعت بحران کا شکار

اٹلی یورپ میں چاول پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، لیکن ایشیائی چاول کی درآمدات میں اضافے، پیداواری لاگت بڑھنے اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث زیادہ شدید اور بار بار آنے والی خشک سالی نے اس شعبے کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

زرعی تنظیم کولدیریٹی کے تخمینے کے مطابق شدید گرمی کے باعث رواں سال چاول کی پیداوار کا تقریباً 25 فیصد حصہ ضائع ہو سکتا ہے۔

اس صورت حال میں کسان پانی کے استعمال اور کاشت کے طریقوں پر نظرثانی کر رہے ہیں، جن میں مسلسل پانی سے بھرے کھیتوں کے بجائے خشک زمین پر بیج بونے کا طریقہ بھی شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق چاول کے کھیتوں میں پانی بھرنے کا عمل زیر زمین آبی ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

زرعی ماہر جیوانی مولینا نے اے ایف پی کو بتایا کہ پانی سے بھرے کھیت زمین کے نیچے موجود آبی ذخائر کی بحالی میں مدد دیتے ہیں، جو پانی کو قدرتی طور پر محفوظ رکھتے ہیں۔

مولینا کے مطابق اٹلی کے چاول پیدا کرنے والے علاقوں میں پانی کی بچت کے تصور کے تحت خشک زمین پر کاشت کا بڑھتا ہوا رجحان ایک غلط فہمی پر مبنی ہو سکتا ہے اور اس سے یورپ کے زرخیز ترین میدانی علاقوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

حیاتیاتی تنوع، زراعت کے مستقبل کی ضمانت

ایلس چیروتی کا تجربہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے حیاتیاتی تنوع سے متعلق آئندہ سربراہی اجلاس میں 2030 تک دنیا کی 30 فیصد زمین اور سمندری علاقوں کے تحفظ کے ہدف کا جائزہ لیا جانا ہے۔ اس ہدف کو 30×30 کا نام دیا گیا ہے۔

چیروتی کے مطابق قدرتی ماحول کی بحالی محض جنگلی حیات کے تحفظ تک محدود نہیں بلکہ زراعت کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچانے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تاریخی اقسام کے چاول اور قدرتی ماحول سے ہم آہنگ کاشت کے طریقے شدید گرمی اور خشک سالی کے خلاف زیادہ مضبوط زرعی نظام تشکیل دینے میں معاون ہو سکتے ہیں۔

ان کا فارم یورپی یونین سے تصدیق شدہ محفوظ علاقے کا درجہ رکھتا ہے۔ قدرتی ماحول کی بحالی کے لیے بعض زرعی رقبے کی قربانی سے ہونے والے مالی نقصان کو پورا کرنے کے لیے وہ اسکولوں اور ماہرین تعلیم کی میزبانی اور سیاحوں کو رہائش کی سہولت فراہم کرنے کے امکانات بھی تلاش کر رہی ہیں۔

چیروتی کے مطابق بہت سے ساتھی کسان ان کے اس فیصلے کو غیر معمولی بلکہ دیوانگی سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے زمین کو دوبارہ زندہ ہوتے دیکھنا خوشی کا باعث ہے۔

اٹلی کی اس کسان خاتون کا تجربہ اس سوال کو نمایاں کرتا ہے کہ بدلتے موسم، پانی کی قلت اور حیاتیاتی تنوع میں کمی کے دور میں زراعت کی کامیابی صرف زیادہ پیداوار سے ناپی جائے یا اس میں زمین کی صحت، قدرتی وسائل کا تحفظ اور مستقبل کی غذائی ضروریات بھی شامل ہوں۔