معروف بھارتی نغمہ نگار اور مصنف جاوید اختر نے خاندان، والدین اور بچوں کے رشتوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاندان بچوں کو نام، زبان، تہذیب اور اقدار کی وراثت تو دے سکتا ہے، لیکن ان کی ذاتی شناخت کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ ان کے مطابق بچوں کو ایک عمر کے بعد اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے اور اپنی الگ پہچان بنانے کی آزادی ملنی چاہیے۔
اپنے ایک انٹرویو میں جاوید اختر کا کہنا ہے کہ بچوں کا والدین سے الگ رہنا خاندانی رشتوں کے ٹوٹنے کی علامت نہیں، بلکہ بدلتے وقت اور جدید زندگی کی ایک حقیقت ہے۔
ان کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ خاندانوں کی ساخت بدلتی رہتی ہے، نئی نسلیں اپنے گھر بساتے ہوئے زندگی میں آگے بڑھتی ہیں اور رشتوں کی نوعیت بھی تبدیل ہوجاتی ہے۔
جاوید اختر کے مطابق بچوں کا اپنے فیصلے کرنا اور آزادانہ زندگی گزارنا فطری عمل ہے، جبکہ ان کی ہر سوچ اور ہر قدم کو کنٹرول کرنے کی کوشش درست نہیں۔ والدین کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ اولاد کی زندگی کا ہر راستہ خود طے کریں، بلکہ انہیں اتنی سمجھ اور تربیت دیں کہ وہ صحیح اور غلط میں فرق کرسکیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کو اپنی غلطیوں سے سیکھنے، اپنے فیصلے کرنے اور اپنی زندگی کو اپنی سوچ کے مطابق تشکیل دینے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
جاوید اختر کے مطابق ایک اچھا خاندان وہ ہے جہاں کسی شخص کو محض اپنا ہونے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کی الگ شخصیت، سوچ اور آزادی کی وجہ سے بھی عزت دی جائے۔ خاندان میں محبت کے ساتھ بات چیت، اختلافِ رائے کی گنجائش اور ایک دوسرے کو سننے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ بچوں کی تربیت میں ایمانداری، خودمختاری اور دلیل کے ساتھ سوچنے کی صلاحیت پیدا کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ صرف خاندانی روایات کو دہرانے کے بجائے اپنی سمجھ بوجھ سے زندگی گزار سکیں۔
جاوید اختر نے خاندانی وراثت اور ذاتی شناخت کے فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کسی فرد کو نام، زبان، ثقافت، کہانیاں اور اقدار دے سکتا ہے، لیکن اس کی اپنی شناخت متعین نہیں کرسکتا۔
ان کے مطابق اگر بیٹا صرف اپنے والد کی آواز دہراتا رہے تو یہ وراثت نہیں بلکہ محض بازگشت ہے۔ کسی خاندان کی اصل کامیابی اس بات میں ہے کہ اس کے بچے کتنے اچھے انسان بنتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ کس قدر احترام سے پیش آتے ہیں۔
جاوید اختر کے اس پیغام کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ خاندان کا مقصد صرف اپنے افراد کو اپنے ساتھ باندھ کر رکھنا نہیں، بلکہ ایسے انسانوں کی تربیت کرنا ہے جو خودمختار ہونے کے ساتھ دوسروں کی عزت اور انسانیت کا احترام بھی کریں۔


