پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت اچانک گرنے کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں بڑی تعداد کم عمر بچوں کی ہے جبکہ ایک خاتون ٹیچر بھی حادثے کا شکار ہوئیں۔ حادثے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور والدین اپنے بچوں کی خیریت جاننے کے لیے جائے وقوعہ اور اسپتال پہنچ گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ اسکول میں تدریسی سرگرمیوں کے دوران پیش آیا۔ چھت گرنے کے بعد متعدد طلبہ اور عملے کے افراد ملبے تلے دب گئے، جس کے بعد ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائی شروع کردی۔ بھاری مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹانے کے ساتھ ساتھ دبے ہوئے افراد کی تلاش جاری رکھی گئی۔
ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ مقامی افراد نے بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا، جبکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرکے لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال میں ہنگامی صورتحال نافذ کی گئی اور زخمیوں کے علاج کے لیے طبی عملہ متحرک کردیا گیا۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
اسکول کی عمارت کے ملبے میں مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا، جس کے باعث امدادی کارروائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ حکام کی جانب سے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات بھی شروع کردی گئی ہیں، جبکہ ابتدائی اطلاعات میں عمارت کی ساخت اور تعمیراتی معیار سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
واقعے پر وزیراعظم شہباز شریف نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔


