ہیوسٹن: امریکی الیکٹرک کار بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے اپنی نئی اسپورٹس کار روڈسٹر متعارف کرادی ہے، جسے انہوں نے اڑنے کی صلاحیت رکھنے والی گاڑی قرار دیا ہے۔ جمعرات کو ریاست ٹیکساس میں اسپیس ایکس کی آزمائشی تنصیب پر ہونے والی تقریب میں گاڑی کا مظاہرہ براہ راست نشر کیا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گاڑی کو ایک ڈھلوان اسٹیل ریمپ سے ہوا میں اچھلتے اور مکمل قلابازی لگانے کے بعد دوبارہ پہیوں پر اترتے دکھایا گیا۔ تاہم اس مظاہرے میں گاڑی کو کسی ڈرائیور نے نہیں چلایا تھا۔
ایلون مسک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اڑنے والی کاریں اب حقیقت بن چکی ہیں۔ ان کے مطابق، اس منصوبے کی کامیابی یقینی نہیں، لیکن انہیں توقع ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کام کرے گی۔

ایلون مسک کے مطاب، نئی روڈسٹر میں 10 نوزلز اور انتہائی بلند دباؤ والے ہوا کے ٹینک نصب کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے گاڑی کو ہوا میں بلند کرنے اور زمین پر تیزی سے رفتار پکڑنے میں مدد ملے گی۔
مسک نے دعویٰ کیا کہ گاڑی صفر سے 60 میل فی گھنٹہ یعنی تقریباً 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں حاصل کرسکتی ہے، جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 230 میل فی گھنٹہ یعنی تقریباً 370 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔
انہوں نے اس منصوبے کو ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے درمیان اشتراک کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کے بقول، گاڑی کی ٹیکنالوجی اسے راکٹ کی طرح پرواز کرنے کی صلاحیت دے سکتی ہے۔
ایلون مسک نے اعلان کیا کہ روڈسٹر کی پیداوار 2028 میں شروع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ دلچسپی رکھنے والے صارفین ٹیسلا کی ویب سائٹ پر اس گاڑی کے پرفارمنس اور تھرسٹ ماڈلز کے لیے ریزرویشن کراسکتے ہیں۔

تھرسٹ ماڈل میں اضافی یا زیادہ طاقتور تھرسٹرز کی سہولت پیش کی گئی ہے۔ تاہم، گاڑی کی حتمی فروخت کی قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا۔
روڈسٹر کی رونمائی کئی مرتبہ ملتوی ہوچکی ہے اور اس منصوبے کا انتظار برسوں سے کیا جارہا تھا۔ ایلون مسک کی جانب سے ماضی میں بھی مختلف منصوبوں کی پیداوار اور دستیابی کے لیے مقرر کردہ تاریخیں آگے بڑھتی رہی ہیں، اس لیے 2028 کا ہدف بھی حتمی ضمانت نہیں سمجھا جاسکتا۔
ایلون مسک نے اعتراف کیا کہ یہ گاڑی لازماً روایتی حفاظتی معیار کو سامنے رکھ کر تیار نہیں کی گئی، تاہم ان کے مطابق یہ ایک ایسی حقیقی گاڑی ہوگی جسے لوگ خرید کر سڑکوں پر چلاسکیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ گاڑی ہر ملک اور ہر دائرۂ اختیار میں قانونی طور پر چلانے کی اجازت حاصل کرسکے گی، لیکن مستقبل میں کسی شخص کے لیے ایسی گاڑی کی ملکیت ممکن ہوگی۔
یہی اس منصوبے کے سامنے موجود بڑے سوالات میں سے ایک ہے۔ گاڑی کو زمین پر چلانے کے علاوہ ہوا میں بلند کرنے کے لیے اضافی حفاظتی تقاضوں، فضائی حدود کے قواعد، تکنیکی منظوری اور قانونی اجازتوں کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
مظاہرے میں ڈرائیور کی عدم موجودگی کے بارے میں مسک نے کہا کہ اس کا مقصد کسی کو نقصان پہنچنے کے خطرے سے بچنا تھا۔
ٹیسلا اپنے اعلان کردہ منصوبے پر عمل کرنے میں کامیاب رہی تو 2028 میں اس گاڑی کی پیداوار کا آغاز آٹوموبائل اور فضائی ٹیکنالوجی کے امتزاج کی جانب ایک نمایاں قدم ہوگا۔


