ٹیسٹ ٹوئنٹی: کرکٹ کا نیا فارمیٹ، لڑکے لڑکیاں ایک ہی ٹیم کی جیت کے لیے کھیلیں گے

کرکٹ کی دنیا میں ایک منفرد تجربہ متعارف ہونے جا رہا ہے، جہاں لڑکے اور لڑکیاں الگ الگ ٹیموں کی صورت میں کھیلنے کے باوجود ایک ہی ٹیم کی جیت اور شکست کے ذمہ دار ہوں گے۔

نئے فارمیٹ ’’ٹیسٹ ٹوئنٹی‘‘ کا پہلا ٹورنامنٹ 14 سے 29 نومبر 2026 تک سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو کے سنہالی اسپورٹس کلب (ایس ایس سی) میں منعقد ہوگا۔ منتظمین اسے کرکٹ کا چوتھا فارمیٹ قرار دے رہے ہیں۔

اس ٹورنامنٹ میں دنیا بھر سے 13 سے 21 سال کی عمر کے 160 نوجوان کرکٹرز حصہ لیں گے، جنہیں چار براعظمی ٹیموں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر ٹیم میں 20 لڑکے اور 20 لڑکیاں شامل ہوں گے۔ اس فارمیٹ کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے الگ الگ مقابلے ہوں گے، لیکن دونوں کے بنائے گئے رنز کو جمع کرکے ٹیم کا مجموعی اسکور بنایا جائے گا، جس کی بنیاد پر جیت یا شکست کا فیصلہ ہوگا۔

مقابلہ 80 اوورز کا، فیصلہ ایک ہی دن میں

ٹیسٹ ٹوئنٹی کا ہر میچ مجموعی طور پر 80 اوورز پر مشتمل ہوگا اور ایک ہی دن میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں دن کے وقت سرخ گیند اور سفید لباس کے ساتھ 40 اوورز کھیلے جائیں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں فلڈ لائٹس کے نیچے سفید گیند اور رنگین لباس کے ساتھ مزید 40 اوورز ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں بننے والے رنز دوسرے مرحلے کے اسکور میں شامل رہیں گے۔ یوں ٹیسٹ کرکٹ کی حکمتِ عملی اور ٹی ٹوئنٹی کی تیز رفتار سنسنی کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

منتظمین کے مطابق اس نئے فارمیٹ کا مقصد نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کرنا اور خواتین و مرد کھلاڑیوں کی کارکردگی کو ایک مشترکہ نتیجے سے جوڑنا ہے۔ اس مقابلے کے مشاورتی بورڈ میں جنوبی افریقہ کے سابق کپتان اے بی ڈی ویلیئرز، آسٹریلیا کے سابق بلے باز میتھیو ہیڈن اور ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان سر کلائیو لائیڈ شامل ہیں، جبکہ معروف کوچ راجکمار شرما سلیکشن کمیٹی کی سربراہی کریں گے۔

کرکٹ کے اس نئے تجربے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ شائقین اسے کس حد تک قبول کرتے ہیں اور یہ فارمیٹ کھیل کے مقابلے، دلچسپی اور نوجوان ٹیلنٹ کی ترقی میں کتنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ نومبر میں کولمبو میں ہونے والا افتتاحی ٹورنامنٹ اس منفرد تصور کی عملی آزمائش ہوگا۔